السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الأرض إذا أخذت عنوة فوقفت للمسلمين بطيب أنفس الغانمين لم يجز بيعها إذا أسلم من هي في يده لم يسقط خراجها باب: وہ زمین جو طاقت کے زور پر فتح کی جائے پھر غازیوں کی خوش دلی سے اسے مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا جائے تو اس کی فروخت جائز نہیں، اور اگر وہ شخص جس کے قبضے میں وہ زمین ہے مسلمان ہو جائے تو اس کا خراج ساقط نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 18416
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيَّ، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: إِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ فَضَعْ عَنْ أَرْضِي الْخَرَاجَ. فَقَالَ: أَلَا إِنَّ أَرْضَكَ أُخِذَتْ عَنْوَةً. قَالَ: وَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنَّ أَرْضَ كَذَا وَكَذَا يُطِيقُونَ مِنَ الْخَرَاجِ أَكْثَرَ مِمَّا عَلَيْهِمْ. فَقَالَ: لَا سَبِيلَ إِلَيْهِمْ إِنَّمَا صَالَحْنَاهُمْ صُلْحًا.حافظ ثناء اللہ
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: میں نے اسلام قبول کر لیا ہے، جزیہ ختم کر دو۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں، آپ کی زمین بذریعہ لڑائی حاصل کی گئی ہے۔ راوی کہتے ہیں: دوسرا شخص آیا کہ فلاں زمین والے زیادہ خراج دینے کی طاقت رکھتے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم نے اسی پر ان سے صلح کی ہے۔