السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الأرض إذا أخذت عنوة فوقفت للمسلمين بطيب أنفس الغانمين لم يجز بيعها إذا أسلم من هي في يده لم يسقط خراجها باب: وہ زمین جو طاقت کے زور پر فتح کی جائے پھر غازیوں کی خوش دلی سے اسے مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا جائے تو اس کی فروخت جائز نہیں، اور اگر وہ شخص جس کے قبضے میں وہ زمین ہے مسلمان ہو جائے تو اس کا خراج ساقط نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 18412
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى، ثنا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَسْلَمَتِ امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِ نَهَرِ الْمَلِكِ. قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ أَوْ كَتَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنِ اخْتَارَتْ أَرْضَهَا وَأَدَّتْ مَا عَلَى أَرْضِهَا فَخَلُّوا بَيْنَهَا وَبَيْنَ أَرْضِهَا، وَإِلَّا خَلُّوا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ وَبَيْنَ أَرَضِيهِمْ.حافظ ثناء اللہ
طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اہل نہر سے ایک عورت مسلمان ہو گئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے خط لکھا: اگر وہ اپنی زمین کو اختیار کرے اور جزیہ ادا کرے تو اس کو زمین دے دو، ورنہ زمین سے فارغ کر دو۔