السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الأرض إذا أخذت عنوة فوقفت للمسلمين بطيب أنفس الغانمين لم يجز بيعها إذا أسلم من هي في يده لم يسقط خراجها باب: وہ زمین جو طاقت کے زور پر فتح کی جائے پھر غازیوں کی خوش دلی سے اسے مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا جائے تو اس کی فروخت جائز نہیں، اور اگر وہ شخص جس کے قبضے میں وہ زمین ہے مسلمان ہو جائے تو اس کا خراج ساقط نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 18413
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى، ثنا حَفْصُ بْنُ ⦗٢٣٩⦘ غِيَاثٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ الْأَسَدِيِّ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا إِذَا أَسْلَمَ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ السَّوَادِ تَرَكَاهُ يَقُومُ بِخَرَاجِهِ فِي أَرْضِهِ.حافظ ثناء اللہ
ابو عون ثقفی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما اہلِ سواد کے افراد کو چھوڑ دیتے، جب وہ اسلام قبول کر لیتے تو فرماتے: وہ اپنی زمین پر ہی رہیں اور خراج ادا کرتے رہیں۔