السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الأرض إذا أخذت عنوة فوقفت للمسلمين بطيب أنفس الغانمين لم يجز بيعها إذا أسلم من هي في يده لم يسقط خراجها باب: وہ زمین جو طاقت کے زور پر فتح کی جائے پھر غازیوں کی خوش دلی سے اسے مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا جائے تو اس کی فروخت جائز نہیں، اور اگر وہ شخص جس کے قبضے میں وہ زمین ہے مسلمان ہو جائے تو اس کا خراج ساقط نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 18411
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى، ثنا قَيْسٌ، عَنْ أَبِي إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ، قَالَ: اشْتَرَيْتُ عَشَرَةَ أَجْرِبَةٍ مِنْ أَرْضِ السَّوَادِ عَلَى شَاطِئِ الْفُرَاتِ لِقَضْبِ دَوَابَّ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: اشْتَرَيْتَهَا مِنْ أَصْحَابِهَا؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: رُحْ إِلِيَّ. قَالَ: فَرُحْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا هَؤُلَاءِ، أَبِعْتُمُوهُ شَيْئًا؟ قَالُوا: لَا. قَالَ: ابْتَغِ مَالَكَ حَيْثُ وَضَعْتَهُ.حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ حضرت عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے سواد کی زمین سے دس ایکڑ زمین فرات کے کنارے خریدی، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے تذکرہ ہوا تو انہوں نے پوچھا: کیا آپ نے ان زمین والوں سے خریدی ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ کہنے لگے: میرے پاس آؤ۔ میں ان کے پاس گیا تو فرمایا: کیا تم نے ان کو کچھ فروخت کیا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ فرمایا: اپنا مال لو جس کو دے رکھا ہے۔