السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الأرض إذا أخذت عنوة فوقفت للمسلمين بطيب أنفس الغانمين لم يجز بيعها إذا أسلم من هي في يده لم يسقط خراجها باب: وہ زمین جو طاقت کے زور پر فتح کی جائے پھر غازیوں کی خوش دلی سے اسے مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا جائے تو اس کی فروخت جائز نہیں، اور اگر وہ شخص جس کے قبضے میں وہ زمین ہے مسلمان ہو جائے تو اس کا خراج ساقط نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 18410
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ هُوَ ابْنُ حَرْبٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: اشْتَرَى عُتْبَةُ بْنُ فَرْقَدٍ أَرْضًا مِنْ أَرْضِ الْخَرَاجِ ثُمَّ أَتَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ: مِمَّنِ اشْتَرَيْتَهَا؟ قَالَ: مِنْ أَهْلِهَا. قَالَ: فَهَؤُلَاءِ أَهْلُهَا - لِلْمُسْلِمِينَ - أَبِعْتُمُوهُ شَيْئًا؟ قَالُوا: لَا. قَالَ: اذْهَبْ فَاطْلُبْ مَالَكَ.حافظ ثناء اللہ
بکر بن عامر حضرت عامر رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ نے خراج والی زمین خریدی، پھر آ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا۔ انہوں نے پوچھا: آپ نے کس سے خریدی ہے؟ کہنے لگے: زمین والوں سے۔ فرمایا: یہ زمین والے ہیں۔ کیا تم نے ان سے کچھ خریدا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ فرمایا: جا کر اپنا مال واپس لے لو۔