السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من رخص في شراء أرض الخراج باب: اس شخص کا بیان جس نے خراجی زمین خریدنے کی اجازت دی ہے۔
حدیث نمبر: 18405
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى، حَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: اشْتَرَى الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مِلْحَةً أَوْ مِلْحًا، وَاشْتَرَى الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَرِيدَيْنِ مِنْ أَرْضِ الْخَرَاجِ وَقَالَ: قَدْ رَدَّ إِلَيْهِمْ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَرْضَهُمْ وَصَالَحَهُمْ عَلَى الْخَرَاجِ الَّذِي وَضَعَهُ عَلَيْهِمْ.حافظ ثناء اللہ
ابن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے نمک کی زمین خریدی اور حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے خراج والی زمین میں سے دو برید (مسافت کا پیمانہ) زمین خریدی، راوی کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے زمین واپس کر دی اور جزیہ پر صلح کر لی جو انہوں نے ان پر مقرر کیا تھا۔