کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جس نے خراجی زمین خریدنے کی اجازت دی ہے۔
حدیث نمبر: 18403
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: اشْتَرَى عَبْدُ اللهِ أَرْضًا مِنْ أَرْضِ الْخَرَاجِ قَالَ: فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهَا يَعْنِي دُهْقَانَهَا: أَنَا أَكْفِيكَ إِعْطَاءَ خَرَاجِهَا وَالْقِيَامَ عَلَيْهَا.
حافظ ثناء اللہ
قاسم بن عبدالرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جزیے والی زمین خریدی تو ان سے حنظلہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات کہی کہ میں آپ کی جانب سے جزیہ ادا کروں گا اور زمین کی دیکھ بھال بھی کروں گا۔
حدیث نمبر: 18404
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا حَفْصٌ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: اشْتَرَى عَبْدُ اللهِ أَرْضَ الْخَرَاجِ مِنْ دُهْقَانٍ وَعَلَى أَنْ يَكْفِيَهُ خَرَاجَهَا.
حافظ ثناء اللہ
امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ایک تاجر سے جزیہ کی زمین خریدی اور شرط رکھی کہ وہ اس کا جزیہ ادا کرتے رہیں گے۔
حدیث نمبر: 18405
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى، حَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: اشْتَرَى الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مِلْحَةً أَوْ مِلْحًا، وَاشْتَرَى الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَرِيدَيْنِ مِنْ أَرْضِ الْخَرَاجِ وَقَالَ: قَدْ رَدَّ إِلَيْهِمْ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَرْضَهُمْ وَصَالَحَهُمْ عَلَى الْخَرَاجِ الَّذِي وَضَعَهُ عَلَيْهِمْ.
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے نمک خریدا اور حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے جزیہ کی باقی ماندہ زمین خریدی، راوی کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے زمین واپس کر دی اور جزیہ پر صلح کر لی جو کم کیا تھا۔
حدیث نمبر: 18406
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَسَنٍ، أَنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا اشْتَرَيَا قِطْعَةً مِنْ أَرْضِ الْخَرَاجِ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما نے جزیہ کی زمین کا ایک ٹکڑا خریدا۔
حدیث نمبر: 18407
قَالَ: وَحَدَّثَنَا يَحْيَى، ثنا عَبَّادٌ، عَنْ حَجَّاجٍ، قَالَ: بَلَغَنَا أَنَّ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اشْتَرَى قِطْعَةً مِنْ أَرْضِ الْخَرَاجِ.
حافظ ثناء اللہ
حجاج بیان کرتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے جزیہ والی زمین کا ایک قطعہ خریدا تھا۔
حدیث نمبر: 18408
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحِيمِ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ شُرَيْحٍ، أَنَّهُ اشْتَرَى أَرْضًا مِنْ أَرْضِ الْحِيرَةِ يُقَالُ لَهَا زُبَا قَالَ: وَقَالَ الْحَكَمُ: وَكَانُوا يُرَخِّصُونَ فِي شِرَاءِ أَرْضِ الْحِيرَةِ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُمْ صُلْحٌ. قَالَ يَحْيَى: وَسَأَلْتُ حَسَنَ بْنَ صَالِحٍ فَكَرِهَ شِرَاءَ أَرْضِ الْخَرَاجِ الَّتِي أُخِذَتْ عَنْوَةً فَوُضِعَ عَلَيْهَا الْخَرَاجُ فَلَمْ يَرَ بَأْسًا بِشِرَاءِ أَرْضِ أَهْلِ الصُّلْحِ.
حافظ ثناء اللہ
حکم رحمہ اللہ، قاضی شریح رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے حیرہ کی زمین خریدی جس کو زت کہا جاتا تھا اور حیرہ کی زمین خریدنے کی رخصت تھی کیونکہ یہ صلح کی زمین تھی۔ (ب) یحییٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حسن بن صالح رحمہ اللہ سے پوچھا تو انہوں نے خراج والی زمین کو خریدنے کو ناپسند فرمایا، جس کو لڑائی سے حاصل کیا گیا ہو اور اس پر جزیہ لاگو کیا گیا ہو اور صلح کی زمین خریدنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔