السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من كره شراء أرض الخراج باب: اس شخص کا بیان جس نے خراجی زمین خریدنے کو ناپسند کیا ہے۔
حدیث نمبر: 18401
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا عُبَيْدٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَشْتَرِيَ مِنْ أَرْضِ الْخَرَاجِ شَيْئًا، وَيَقُولُ: عَلَيْهَا خَرَاجُ الْمُسْلِمِينَ".حافظ ثناء اللہ
قتادہ رحمہ اللہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ جزیہ کی زمین میں سے کچھ بھی خریدنے کو ناپسند کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ مسلمانوں کا جزیہ ان کے ذمہ ہے۔