السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من كره شراء أرض الخراج باب: اس شخص کا بیان جس نے خراجی زمین خریدنے کو ناپسند کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سُفْيَانَ الْعُقَيْلِيِّ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " لَا تَشْتَرُوا رَقِيقَ أَهْلِ الذِّمَّةِ فَإِنَّهُمْ أَهْلُ خَرَاجٍ يُؤَدِّي بَعْضُهُمْ عَنْ بَعْضٍ، وَأَرْضِيهِمْ فَلَا تَبْتَاعُوهَا، وَلَا يُقِرَّنَّ أَحَدُكُمْ بِالصَّغَارِ بَعْدَ إِذْ نَجَّاهُ اللهُ مِنْهُ ". قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: أَرَادَ فِيمَا نَرَى أَنَّهُ إِذَا كَانَتْ لَهُ مَمَالِيكُ وَأَرْضٌ وَأَمْوَالٌ ظَاهِرَةٌ كَانَتْ أَكْثَرَ لِجِزْيَتِهِ، وَكَانَتْ سُنَّةُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِيهِمْ إِنَّمَا كَانَتْ يَضَعُ الْجِزْيَةَ عَلَى قَدْرِ الْيَسَارِ وَالْعُسْرِ، فَلِهَذَا كَرِهَ أَنْ يُشْتَرَى رَقِيقُهُمْ، وَأَمَّا شِرَاءُ الْأَرْضِ فَإِنَّهُ ذَهَبَ فِيهِ إِلَى الْخَرَاجِ كَرِهَ أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، أَلَا تَرَاهُ يَقُولُ: وَلَا يُقِرَّنَّ أَحَدُكُمْ بِالصَّغَارِ بَعْدَ إِذْ نَجَّاهُ اللهُ مِنْهُ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَقَدْ رَخَّصَ فِي ذَلِكَ بَعْدَ عُمَرَ رِجَالٌ مِنْ أَكَابِرِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْهُمْ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَكَانَتْ لَهُ أَرْضٌ بِرَاذَانَ، وَخَبَّابُ بْنُ الْأَرَتِّ وَغَيْرُهُمَا.ابو عیاض حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ تم ذمی شخص سے غلام نہ خریدو، کیونکہ وہ جزیہ دینے والے لوگ ہیں کہ وہ ایک دوسرے سے ادا کرتے ہیں اور ان کی زمینیں بھی نہ خریدو اور تم میں سے کوئی اپنے آپ کو ذلت میں کیوں ڈالتا ہے جب اللہ رب العزت نے اس کو نجات دے دی ہے۔
ابو عبید فرماتے ہیں: جب غلام، زمین اور ظاہری مال ان کے جزیہ سے زیادہ ہوں تو یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا طریقہ تھا کہ وہ آسانی اور تنگی کی وجہ سے جزیہ کو کم کر لیتے تھے۔ اس وجہ سے ان کے غلاموں کو خریدنا ناپسند کیا گیا اور زمین کا خریدنا وہ جزیہ کی ادائیگی کی طرف لے جائے گا اور جزیہ کا ادا کرنا مسلمانوں پر ہو، یہ ناپسندیدہ بات ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ تم میں سے کوئی اپنے آپ کو ذلت میں روکے جب کہ اللہ رب العزت نے اس کو نجات دی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بعد کبارِ صحابہ، جن میں حضرت عبداللہ بن مسعود اور خباب بن ارت رضی اللہ عنہما وغیرہ شامل ہیں، انہوں نے اس بارے میں رخصت دی ہے۔