السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من كره شراء أرض الخراج باب: اس شخص کا بیان جس نے خراجی زمین خریدنے کو ناپسند کیا ہے۔
حدیث نمبر: 18402
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ كُلَيْبِ بْنِ وَائِلٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: اشْتَرَيْتُ أَرْضًا. قَالَ: الشِّرَاءُ حَسَنٌ. قَالَ: قُلْتُ: فَإِنِّي أُعْطِي مِنْ كُلِّ جَرِيبِ أَرْضٍ دِرْهَمًا وَقَفِيزًا مِنْ طَعَامٍ. قَالَ: وَلَا تَجْعَلْ فِي عُنُقِكَ صَغَارًا.حافظ ثناء اللہ
کلیب بن وائل فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: میں نے زمین خریدی ہے، تو انہوں نے فرمایا: زمین خریدنا اچھا ہے۔ کہتے ہیں: میں نے کہا کہ میں ہر زمین کی کھیتی کے عوض ایک درہم اور ایک کھانے کا قفیز (پیمانہ) ادا کرتا ہوں، تو انہوں نے کہا کہ ذلت کو اپنے گلے میں نہ ڈالو۔