حدیث نمبر: 18371
حَدَّثَنَا يَحْيَى، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْقِلٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي حُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَصْفَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ هَذَا السَّوَادِ عَشَرَةَ أَصْنَافٍ، أَصْفَى أَرْضَ مَنْ قُتِلَ فِي الْحَرْبِ، وَمَنْ هَرَبَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، ⦗٢٢٧⦘ يَعْنِي إِلَيْهِمْ، وَكُلَّ أَرْضٍ لِكِسْرَى، وَكُلَّ أَرْضٍ كَانَتْ لِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِهِ، وَكُلَّ مَغِيضِ مَاءٍ، وَكُلَّ دَيْرِ بَرِيدٍ. قَالَ: وَنَسِيتُ أَرْبَعًا. قَالَ: وَكَانَ خَرَاجُ مَنْ أَصْفَى سَبْعَةَ آلَافِ أَلْفٍ، فَلَمَّا كَانَتِ الْجَمَاجِمُ أَحْرَقَ النَّاسُ الدِّيوَانَ وَأَخَذَ كُلُّ قَوْمٍ مَا يَلِيهِمْ.حافظ ثناء اللہ
عبدالمطلب بن ابی حرہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سواد کی دس اقسام اپنے لیے خاص کر لیں: (۱) لڑائی میں قتل ہونے والے کی زمین، (۲) جو کفار کی جانب بھاگ جائے، (۳) کسریٰ کی تمام زمین، (۴) تمام وہ زمین جو اس کے رہنے والوں کی تھی، (۵) کم پانی والی زمین، (۶) محکمہ ڈاک؛ کہتے ہیں کہ چار اشیاء میں بھول گیا۔ ان کا کل خراج سات لاکھ بنتا تھا۔ جب لڑائی ہوئی تو لوگوں نے رجسٹر جلا ڈالے اور جو کسی کے ہاتھ آئی اس پر قبضہ کر لیا۔