أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَا أَعْرِفُ مَا أَقُولُ فِي أَرْضِ السَّوَادِ إِلَّا ظَنًّا مَقْرُونًا إِلَى عِلْمٍ، وَذَلِكَ أَنِّي وَجَدْتُ أَصَحَّ حَدِيثٍ يَرْوِيهِ الْكُوفِيُّونَ عِنْدَهُمْ فِي السَّوَادِ لَيْسَ فِيهِ بَيَانٌ، وَوَجَدْتُ أَحَادِيثَ مِنْ أَحَادِيثِهِمْ تُخَالِفُهُ مِنْهَا أَنَّهُمْ يَقُولُونَ: السَّوَادُ صُلْحٌ، وَيَقُولُونَ: السَّوَادُ عَنْوَةٌ، وَيَقُولُونَ: بَعْضُ السَّوَادِ صُلْحٌ وَبَعْضُهُ عَنْوَةٌ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں ارضِ سواد (عراق کی زرعی زمین) کے بارے میں علم سے ملے ہوئے گمان کے سوا کچھ نہیں کہہ سکتا، کیونکہ میں نے دیکھا کہ سواد کے بارے میں کوفی جو سب سے صحیح حدیث روایت کرتے ہیں اس میں وضاحت نہیں ہے، اور میں نے ان کی احادیث میں ایسی احادیث بھی پائیں جو اس کے مخالف ہیں؛ ان میں سے یہ کہ وہ کہتے ہیں: سواد صلح سے فتح ہوا، اور کہتے ہیں: سواد زبردستی (قوت سے) فتح ہوا، اور کہتے ہیں: سواد کا کچھ حصہ صلح سے اور کچھ زبردستی فتح ہوا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا أَبُو زُبَيْدٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: السَّوَادُ مِنْهُ صُلْحٌ وَمِنْهُ عَنْوَةٌ، فَمَا كَانَ مِنْهُ عَنْوَةٌ فَهُوَ لِلْمُسْلِمِينَ، وَمَا كَانَ مِنْهُ صُلْحٌ فَلَهُمْ أَمْوَالُهُمْ.
حافظ ثناء اللہ
اشعث، ابن سیرین رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ «السَّوَاد» کا کچھ حصہ صلح سے اور کچھ زبردستی فتح ہوا؛ جو زبردستی حاصل ہوا وہ مسلمانوں کے لیے ہے اور جہاں پر صلح ہوئی تو ان کے مال انہی کے ہیں۔
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ يَحْيَى: عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عُبَيْدٍ أَبِي الْحَسَنِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْقِلٍ، قَالَ: لَا تُبَاعُ أَرْضٌ دُونَ الْجَبَلِ إِلَّا أَرْضُ بَنِي صَلُوبَا وَأَرْضُ الْحِيرَةِ، فَإِنَّ لَهُمْ عَهْدًا. قَالَ الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ: كُنَّا نَسْمَعُ أَنَّ مَا دُونَ الْجَبَلِ مِمَّا وَرَاءَهُ صُلْحٌ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن معقل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پہاڑ کے اِس طرف کی کوئی زمین فروخت نہ کی جائے سوائے بنو صلوبا اور حیرہ کی زمین کے، کیونکہ ان کے ساتھ معاہدہ ہے۔ حسن بن صالح رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم سنا کرتے تھے کہ پہاڑ کے اِس طرف کا علاقہ، اُس طرف کے مقابلے میں، صلح سے حاصل ہوا تھا۔
قَالَ: وَحَدَّثَنَا يَحْيَى، ثنا شَرِيكٌ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ مَعْقِلٍ، قَالَ: لَيْسَ لِأَهْلِ السَّوَادِ عَهْدٌ إِلَّا أَرْضَ الْحِيرَةِ وَأَلِيسَ وَبَانِقْيَا. قَالَ شَرِيكٌ: إِنَّ أَهْلَ بَانِقْيَا كَانُوا دَلُّوا جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ عَلَى مَخَاضَةٍ، وَأَهْلُ أَلِيسَ كَانُوا أَنْزَلُوا أَبَا عُبَيْدَةَ وَدَلُّوهُ عَلَى شَيْءٍ. قَالَ يَحْيَى: أَظُنُّهُ يَعْنِي عَوْرَةً لِلْعَدُوِّ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن معقل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل سواد کا کوئی معاہدہ نہیں سوائے حیرہ، لیّس اور بانقیا کی زمین کے، شریک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اہل بانقیا نے جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی (دریا کی) ایک گزرگاہ کی طرف راہنمائی کی تھی اور اہل لیّس نے ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو اپنے ہاں ٹھہرایا تھا اور کسی چیز کی طرف ان کی راہنمائی کی تھی، یحییٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ ان کی مراد دشمن کی کمزور جگہ ہے۔
قَالَ: وَحَدَّثَنَا يَحْيَى، ثنا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: صَالَحَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ أَهْلَ الْحِيرَةِ وَأَهْلَ عَيْنِ التَّمْرِ، قَالَ: وَكَتَبَ بِذَلِكَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَجَازَهُ، قَالَ يَحْيَى: قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ: فَأَهْلُ عَيْنِ التَّمْرِ مِثْلُ أَهْلِ الْحِيرَةِ إِنَّمَا هُوَ شَيْءٌ عَلَيْهِمْ وَلَيْسَ عَلَى أَرْضِهِمْ شَيْءٌ، قَالَ: نَعَمْ.
حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے حیرہ اور اہل عین التمر سے صلح کی اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا تو انہوں نے اجازت دے دی۔ یحییٰ کہتے ہیں کہ میں نے حسن بن صالح رحمہ اللہ سے کہا کہ عین التمر والے حیرہ والوں کی مثل ہیں، ان کے ذمہ کچھ ہوتا ہے، لیکن ان کی زمین پر کچھ نہیں ہوتا۔۔۔ فرمایا: ہاں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى، ثنا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: انْتَهَيْنَا إِلَى أَهْلِ الْحِيرَةِ فَصَالَحْنَاهُمْ عَلَى أَلْفِ دِرْهَمٍ وَرَحْلٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي: مَا صَنَعْتُمْ بِذَلِكَ الرَّحْلِ؟ قَالَ: صَاحِبٌ لَنَا لَمْ يَكُنْ لَهُ رَحْلٌ. كَذَا فِي كِتَابِي: أَلْفِ دِرْهَمٍ، وَقَالَ غَيْرُهُ: سَبْعِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ.
حافظ ثناء اللہ
اسود بن قیس رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب ہم حیرہ والوں کے پاس پہنچے تو ایک ہزار درہم اور سواری کے عوض ان سے صلح کی۔ کہتے ہیں: میں نے اپنے والد سے کہا: تم نے اس سواری کا کیا کیا؟ کہتے ہیں: ہمارا ایک ساتھی تھا جس کے پاس سواری نہ تھی۔ اس طرح میری کتاب میں ہزار درہم تو دوسروں نے کہا: ستر ہزار درہم۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ: كَانُوا يُرَخِّصُونَ أَنْ يَشْتَرُوا مِنْ أَرْضِ الْحِيرَةِ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُمْ صُلْحٌ.
حافظ ثناء اللہ
اشعث، حضرت حکم رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ حیرہ کی زمین خریدنے کی رخصت دیتے تھے، کیونکہ ان سے صلح ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: أَهْلُ الْحِيرَةِ إِنَّمَا صُولِحُوا عَلَى مَا لَمْ يَقْتَسِمُوهُ بَيْنَهُمْ، وَلَيْسَ عَلَى رُءُوسِ الرِّجَالِ شَيْءٌ.
حافظ ثناء اللہ
مجالد بن سعید کہتے ہیں کہ حیرہ والوں سے صرف اس مال پر صلح ہوئی تھی جو انہوں نے اپنے درمیان تقسیم نہیں کیا تھا، اور مَردوں کے سروں پر کچھ (جزیہ) نہیں تھا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: لِأَهْلِ الْأَنْبَارِ عَهْدٌ أَوْ قَالَ: عَقْدٌ.
حافظ ثناء اللہ
جابر (جعفی)، شعبی رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ اہل انبار سے معاہدہ تھا، یا فرمایا: عقد تھا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: لَيْسَ لِأَهْلِ السَّوَادِ عَهْدٌ، إِنَّمَا نَزَلُوا عَلَى حُكْمٍ.
حافظ ثناء اللہ
جابر (جعفی)، عامر (شعبی) رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ اہل سواد سے معاہدہ نہ تھا، وہ تو صرف حکم پر اترے تھے۔
قَالَ: وَحَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّبَيْدِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ الْأَسَدِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ سُئِلَ فِي زَمَنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَهْلِ السَّوَادِ، أَلَهُمْ عَهْدٌ؟ قَالَ: لَمْ يَكُنْ لَهُمْ عَهْدٌ، فَلَمَّا رُضِيَ مِنْهُمْ بِالْخَرَاجِ صَارَ لَهُمُ الْعَهْدُ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن قیس اسدی، امام شعبی رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے دور میں اہل سواد کے بارے میں پوچھا گیا: کیا ان کے لیے کوئی عہد تھا؟ کہتے ہیں کہ ان کے لیے نہیں تھا، جب رضا مندی سے خراج لیا جانے لگا تو ان کے لیے معاہدہ بن گیا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى، ثنا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: وَرَدَّ إِلَيْهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَرْضَهُمْ وَصَالَحَهُمْ عَلَى الْخَرَاجِ.
حافظ ثناء اللہ
حسن بن صالح، ابن ابی لیلیٰ سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کی زمینیں واپس کر دیں اور خراج پر ان سے صلح کر لی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ إِلَى سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا حِينَ افْتَتَحَ الْعِرَاقَ: أَمَّا بَعْدُ، فَقَدْ بَلَغَنِي كِتَابُكَ تَذْكُرُ أَنَّ النَّاسَ سَأَلُوكَ أَنْ تَقْسِمَ بَيْنَهُمْ مَغَانِمَهُمْ وَمَا أَفَاءَ اللهُ عَلَيْهِمْ، فَإِذَا جَاءَكَ كِتَابِي هَذَا فَانْظُرْ مَا أَجْلَبَ النَّاسُ عَلَيْكَ إِلَى الْعَسْكَرِ مِنْ كُرَاعٍ أَوْ مَالٍ فَاقْسِمْهُ بَيْنَ مَنْ حَضَرَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَاتْرُكِ الْأَرَضِينَ وَالْأَنْهَارَ لِعُمَّالِهَا، فَيَكُونُ ذَلِكَ فِي أَعْطِيَاتِ الْمُسْلِمِينَ، فَإِنَّكَ إِنْ قَسَمْتَهَا بَيْنَ مَنْ حَضَرَ لَمْ يَكُنْ لِمَنْ بَقِيَ بَعْدَهُمْ شَيْءٌ.
حافظ ثناء اللہ
یزید بن ابی حبیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سعد رضی اللہ عنہ کو عراق کی فتح کے موقع پر خط لکھا: حمد و ثنا کے بعد! مجھے آپ کا خط ملا جس میں آپ نے تذکرہ کیا ہے کہ لوگ آپ سے مالِ غنیمت کی تقسیم کا سوال کرتے ہیں اور جو اللہ نے آپ پر لوٹایا ہے؛ جب میرا خط آپ کے پاس آئے تو دیکھنا، جو گھوڑے یا مال لوگ لشکر میں آپ کے پاس لائے ہیں اس کو موجود مسلمانوں کے اندر تقسیم کر دیں، زمینیں اور نہریں ان پر کام کرنے والوں کے لیے چھوڑ دیں، تاکہ یہ (آمدنی) مسلمانوں کے وظائف میں شامل ہو۔ اگر آپ نے موجود لوگوں کے اندر ہی تقسیم کر دیا تو بعد والوں کے لیے کچھ نہ بچے گا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ أَرَادَ أَنْ يَقْسِمَ أَهْلَ السَّوَادِ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ وَأَمَرَ بِهِمْ أَنْ يُحْصَوْا، فَوَجَدُوا الرَّجُلَ الْمُسْلِمَ يُصِيبُهُ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْفَلَّاحِينَ، يَعْنِي الْعُلُوجَ، فَشَاوَرَ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: دَعْهُمْ يَكُونُونَ مَادَّةً لِلْمُسْلِمِينَ، فَبَعَثَ عُثْمَانَ بْنَ حُنَيْفٍ فَوَضَعَ عَلَيْهِمْ ثَمَانِيَةً وَأَرْبَعِينَ وَأَرْبَعَةً وَعِشْرِينَ وَاثْنَيْ عَشَرَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے اہل سواد کو مسلمانوں کے درمیان تقسیم کرنے کا ارادہ کیا اور ان کے بارے میں حکم دیا کہ ان کو شمار کیا جائے۔ تو انہوں نے دیکھا کہ ہر مسلمان آدمی کے حصے میں تین کسان (عجمی کاشتکار) آتے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں نبی ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ انہیں چھوڑ دیں، یہ مسلمانوں کے لیے (آمدنی کا) ذریعہ بنے رہیں۔ انہوں نے عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ کو بھیجا جنہوں نے ان پر 48، 24 اور 12 (درہم ٹیکس) مقرر کیا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْقِلٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي حُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَصْفَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ هَذَا السَّوَادِ عَشَرَةَ أَصْنَافٍ، أَصْفَى أَرْضَ مَنْ قُتِلَ فِي الْحَرْبِ، وَمَنْ هَرَبَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، ⦗٢٢٧⦘ يَعْنِي إِلَيْهِمْ، وَكُلَّ أَرْضٍ لِكِسْرَى، وَكُلَّ أَرْضٍ كَانَتْ لِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِهِ، وَكُلَّ مَغِيضِ مَاءٍ، وَكُلَّ دَيْرِ بَرِيدٍ. قَالَ: وَنَسِيتُ أَرْبَعًا. قَالَ: وَكَانَ خَرَاجُ مَنْ أَصْفَى سَبْعَةَ آلَافِ أَلْفٍ، فَلَمَّا كَانَتِ الْجَمَاجِمُ أَحْرَقَ النَّاسُ الدِّيوَانَ وَأَخَذَ كُلُّ قَوْمٍ مَا يَلِيهِمْ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالملک بن ابی حرہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سواد کی دس اقسام اپنے لیے خاص کر لیں: (1) لڑائی میں قتل ہونے والے کی زمین، (2) جو کفار کی جانب بھاگ جائے، (3) کسریٰ کی تمام زمین، (4) تمام وہ زمین جو کسریٰ کے خاندان کے کسی فرد کی تھی، (5) پانی جمع ہونے کی ہر جگہ (دلدلی زمین)، (6) ڈاک کی ہر چوکی؛ کہتے ہیں کہ چار اشیاء میں بھول گیا۔ ان کا کل خراج ستر لاکھ بنتا تھا۔ جب (دیر) جماجم کی لڑائی ہوئی تو لوگوں نے رجسٹر جلا ڈالے اور جو کسی کے ہاتھ آئی اس پر قبضہ کر لیا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَصْفَى حُذَيْفَةُ أَرْضَ كِسْرَى وَأَرْضَ آلِ كِسْرَى وَمَنْ كَانَ كِسْرَى أَصْفَى أَرْضَهُ، وَأَرْضَ مَنْ قُتِلَ وَمَنْ هَرَبَ، وَالْآجَامَ وَمَغِيضَ الْمَاءِ.
حافظ ثناء اللہ
بنو اسد کے ایک فرد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کسریٰ اور آلِ کسریٰ کی زمین اپنے لیے خاص کر لی، اور جن لوگوں کی زمین کسریٰ نے اپنے لیے خاص کر رکھی تھی (وہ بھی)، اور لڑائی میں قتل ہونے والے کی زمین، اور جو بھاگ گیا (اس کی زمین)، اور جنگل والی زمین اور پانی جمع ہونے کی جگہیں (دلدلی زمین) بھی اپنے لیے خاص کر لی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ الْحِمَّانِيِّ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالرَّحْبَةِ فَقَالَ: لَوْلَا أَنْ يَضْرِبَ بَعْضُكُمْ وُجُوهَ بَعْضٍ لَقَسَمْتُ السَّوَادَ بَيْنَكُمْ.
حافظ ثناء اللہ
ثعلبہ عمانی کہتے ہیں کہ ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس رحبہ نامی جگہ پر آئے تو فرمانے لگے: اگر تم آپس میں لڑائی نہ کرو تو میں تمہارے درمیان سواد کو تقسیم کر دوں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي الْمِقْدَامِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ يَزِيدَ الْحِمَّانِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَحْوَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ثعلبہ بن یزید حمانی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اسی (سابقہ روایت) کی مانند نقل فرماتے ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ. ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَيَقُولُونَ: إِنَّ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ الْبَجَلِيَّ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لوگ کہتے ہیں کہ جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ (روایت اگلی حدیث میں آ رہی ہے)۔
أَخْبَرَنَاهُ الثِّقَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: كَانَتْ بَجِيلَةُ رُبْعَ النَّاسِ فَقُسِمَ لَهُمْ رُبْعُ السَّوَادِ فَاسْتَغَلُّوهُ ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعَ سِنِينَ، أَنَا شَكَكْتُ، ثُمَّ قَدِمْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَمَعِي فُلَانَةُ بِنْتُ فُلَانٍ، امْرَأَةٌ مِنْهُمْ قَدْ سَمَّاهَا لَا يَحْضُرُنِي ذِكْرُ اسْمِهَا، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَوْلَا أَنِّي قَاسِمٌ مَسْئُولٌ لَتَرَكْتُكُمْ عَلَى مَا قُسِمَ لَكُمْ، وَلَكِنْ أَرَى أَنْ تَرُدُّوا عَلَى النَّاسِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَكَانَ فِي حَدِيثِهِ: وَعَاضَنِي مِنْ حَقِّي فِيهِ نَيِّفًا وَثَمَانِينَ، وَكَانَ فِي حَدِيثِهِ: فَقَالَتْ فُلَانَةُ: شَهِدَ أَبِي الْقَادِسِيَّةَ وَثَبَتَ سَهْمُهُ وَلَا أُسْلِمُهُ حَتَّى تُعْطِيَنِي كَذَا وَتُعْطِيَنِي كَذَا. فَأَعْطَاهَا إِيَّاهُ. وَرَوَاهُ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ، فَذَكَرَ قِصَّةَ جَرِيرٍ، وَرَوَاهُ هُشَيْمٌ عَنْ إِسْمَاعِيلَ، ⦗٢٢٨⦘ فَذَكَرَهَا وَذَكَرَ قِصَّةَ الْمَرْأَةِ وَذَكَرَ أَنَّهَا أُمُّ كُرْزٍ، وَذَكَرَ أَنَّهَا قَالَتْ: وَإِنِّي لَسْتُ أُسْلِمُ حَتَّى تَحْمِلَنِي عَلَى نَاقَةٍ ذَلُولٍ وَعَلَيْهَا قَطِيفَةٌ حَمْرَاءُ وَتَمْلَأُ كَفِّي ذَهَبًا، فَفَعَلَ ذَلِكَ، وَكَانَتِ الدَّنَانِيرُ نَحْوًا مِنْ ثَمَانِينَ دِينَارًا.
حافظ ثناء اللہ
قیس بن ابی حازم سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ بجیلہ لوگوں کا چوتھائی حصہ تھا، ان کے لیے سواد کا چوتھائی حصہ تقسیم کر دیا گیا، انہوں نے تین یا چار سال تک غلہ حاصل کیا۔ (یہ شک مجھے ہے)، پھر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور میرے ساتھ انہیں میں سے ایک عورت تھی، اس کا نام ذکر کرنا یاد نہیں رہا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر مجھے پوچھے جانے کا خوف نہ ہو تو تمہاری تقسیم پر ہی چھوڑ دوں، لیکن میرا خیال ہے کہ تم لوگوں پر واپس کر دو گے۔“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حدیث میں ہے: ”اس نے مجھے میرے حق کا بدلہ دیا ہے جو اسی دینار سے بھی زیادہ ہے“ اور دوسری حدیث میں ہے کہ اس عورت نے کہا: ”میرا باپ جنگِ قادسیہ میں موجود تھا، اس کا حصہ مقرر تھا، میں اس کو نہ چھوڑوں گی، مجھے اتنا اتنا دیا جائے۔“ انہوں نے ادا کر دیا۔
(ب) ہشیم اسماعیل سے نقل فرماتے ہیں کہ اس نے عورت کا قصہ ذکر کیا جو ام کرز رضی اللہ عنہا تھی، کہنے لگی: ”اب مجھے اونٹنی پر سوار کریں جس پر سرخ رنگ کی چادر ہو اور میرے دونوں ہاتھوں کو سونے سے بھر دو۔“ پھر انہوں نے دیے اور دینار تقریباً اسی تھے۔
(ب) ہشیم اسماعیل سے نقل فرماتے ہیں کہ اس نے عورت کا قصہ ذکر کیا جو ام کرز رضی اللہ عنہا تھی، کہنے لگی: ”اب مجھے اونٹنی پر سوار کریں جس پر سرخ رنگ کی چادر ہو اور میرے دونوں ہاتھوں کو سونے سے بھر دو۔“ پھر انہوں نے دیے اور دینار تقریباً اسی تھے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: لَمَّا وَفَدَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ إِلَى عُمَرَ وَعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ وَنَاسٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِجَرِيرٍ: يَا جَرِيرُ وَاللهِ لَوْمَا أَنِّي قَاسِمٌ مَسئُولٌ لَكُنْتُمْ عَلَى مَا قُسِمَ لَكُمْ، وَلَكِنِّي أَرَى أَنْ أَرُدَّهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ. فَرَدَّهُ وَكَانَ جَعَلَ رُبْعَ السَّوَادِ لِبَجِيلَةَ فَأَخَذُوا الْخَرَاجَ ثَلَاثَ سِنِينَ، فَرَدَّهُ وَأَعْطَاهُ ثَمَانِينَ دِينَارًا.
حافظ ثناء اللہ
قیس بن ابی حازم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب جریر بن عبداللہ اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما اور کچھ مسلمان حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جریر رضی اللہ عنہ سے کہا: اللہ کی قسم! اگر میں تقسیم کرنے والا اور (اس کا) جواب دہ نہ ہوتا تو تم پہلی تقسیم پر ہی باقی رہتے، لیکن میں مسلمانوں پر واپس کرنا چاہتا ہوں اور لوٹا بھی دیا اور سواد کا چوتھائی حصہ بجیلہ کے پاس تھا۔ انہوں نے تین سال جزیہ وصول کیا، ان سے واپس لے کر اسی دینار عطا کر دیے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: كُنَّا رُبْعَ النَّاسِ يَوْمَ الْقَادِسِيَّةِ، فَأَعْطَانَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رُبْعَ السَّوَادِ، فَأَخَذْنَاهُ ثَلَاثَ سِنِينَ، ثُمَّ وَفَدَ جَرِيرٌ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ: أَمَا وَاللهِ لَوْلَا أَنِّي قَاسِمٌ مَسْئُولٌ لَكُنْتُمْ عَلَى مَا قُسِمَ لَكُمْ، فَأَرَى أَنْ تَرُدَّهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ فَفَعَلَ، وَأَجَازَهُ بِثَمَانِينَ دِينَارًا.
حافظ ثناء اللہ
قیس بن ابی حازم فرماتے ہیں کہ قادسیہ کے دن ہم لوگوں کا چوتھائی حصہ تھے، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں سواد کا چوتھائی حصہ عطا کر دیا، ہم نے تین سال تک جزیہ وصول کیا۔ اس کے بعد جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا وفد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، آپ نے فرمایا: اگر مجھے تقسیم کے بارے میں پوچھے جانے کا ڈر نہ ہوتا تو تمہیں اسی تقسیم پر باقی رکھتا، لیکن میرے خیال میں تم یہ مسلمانوں کو واپس کر دو۔ انہوں نے ایسا کر لیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں اسی دینار انعام میں دیے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: أَعْطَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَرِيرًا وَقَوْمَهُ رُبْعَ السَّوَادِ، فَأَخَذَهُ سَنَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ إِنَّ جَرِيرًا وَفَدَ إِلَى عُمَرَ مَعَ عَمَّارٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا جَرِيرُ لَوْلَا أَنِّي قَاسِمٌ مَسْئُولٌ لَكُنْتُمْ عَلَى مَا كُنْتُمْ عَلَيْهِ، وَلَكِنْ أَرَى أَنْ تَرُدَّهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَرَدَّهُ عَلَيْهِمْ وَأَعْطَاهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ثَمَانِينَ دِينَارًا.
حافظ ثناء اللہ
قیس بن ابی حازم فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جریر رضی اللہ عنہ اور ان کی قوم کو سواد کا چوتھائی حصہ عطا کر دیا۔ انہوں نے دو یا تین سال جزیہ وصول کیا، پھر جریر اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو انہوں نے فرمایا: ”اے جریر! اگر تقسیم کے بارے میں مجھ سے سوال نہ کیا جاتا تو میں تمہیں اسی حالت پر برقرار رکھتا۔ لیکن اب تم یہ مسلمانوں کو واپس کر دو۔“ تو جریر رضی اللہ عنہ نے سواد کا چوتھائی حصہ واپس کر دیا، اس کے عوض سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں اسّی دینار عطا کیے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِجَرِيرٍ: هَلْ لَكَ أَنْ تَأْتِيَ الْعِرَاقَ وَلَكَ الرُّبُعُ أَوِ الثُّلُثُ بَعْدَ الْخُمُسِ مِنْ كُلِّ أَرْضٍ وَشَيْءٍ. هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَالَّذِي قَبْلَهُ مَوْصُولٌ، وَلَيْسَ فِي الْآثَارِ الَّتِي رُوِّينَاهَا وَلَمْ نَرُدَّهَا فِي سَوَادِ الْعِرَاقِ أَصَحُّ مِنْهُ كَمَا قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: ⦗٢٢٩⦘ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ دِلَالَةٌ إِذْ أَعْطَى جَرِيرًا الْبَجَلِيَّ عِوَضًا مِنْ سَهْمِهِ، وَالْمَرْأَةَ عِوَضًا مِنْ سَهْمِ أَبِيهَا أَنَّهُ اسْتَطَابَ أَنْفُسَ الَّذِينَ أَوْجَفُوا عَلَيْهِ، فَتَرَكُوا حُقُوقَهُمْ مِنْهُ، فَجَعَلَهُ وَقْفًا لِلْمُسْلِمِينَ، وَهَذَا حَلَالٌ لِلْإِمَامِ لَوِ افْتُتِحَ الْيَوْمَ أَرْضٌ عَنْوَةً فَأَحْصَى مَنِ افْتَتَحَهَا وَطَابُوا أَنْفُسًا عَنْ حُقُوقِهِمْ مِنْهَا أَنْ يَجْعَلَهَا الْإِمَامُ وَقْفًا، وَحُقُوقُهُمْ مِنْهَا الْأَرْبَعَةُ الْأَخْمَاسِ وَيُوَفَّى أَهْلُ الْخُمُسِ حَقَّهُمْ، إِلَّا أَنْ يَدَعَ الْبَالِغُونَ مِنْهُمْ حُقُوقَهُمْ فَيَكُونَ ذَلِكَ لَهُ، وَالْحُكْمُ فِي الْأَرْضِ كَالْحُكْمِ فِي الْمَالِ، وَقَدْ سَبَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَوَازِنَ وَقَسَمَ أَرْبَعَةَ الْأَخْمَاسِ بَيْنَ الْمُوجِفِينَ، ثُمَّ جَاءَتْهُ وُفُودُ هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ فَسَأَلُوهُ أَنْ يَمُنَّ عَلَيْهِمْ بِأَنْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ مَا أَخَذَ مِنْهُمْ، فَخَيَّرَهُمْ بَيْنَ الْأَمْوَالِ وَالسَّبْيِ، فَقَالُوا: خَيَّرْتَنَا بَيْنَ أَحْسَابِنَا وَأَمْوَالِنَا فَنَخْتَارُ أَحْسَابَنَا، فَتَرَكَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقَّهُ وَحَقَّ أَهْلِ بَيْتِهِ، وَسَمِعَ بِذَلِكَ الْمُهَاجِرُونَ فَتَرَكُوا لَهُ حُقُوقَهُمْ، وَسَمِعَ بِذَلِكَ الْأَنْصَارُ فَتَرَكُوا لَهُ حُقُوقَهُمْ، وَبَقِيَ قَوْمٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ الْآخِرِينَ وَالْفَتْحِيِّينَ فَأَمَرَ فَعَرَفَ عَلَى كُلِّ عَشَرَةٍ وَاحِدٌ ثُمَّ قَالَ: " ائْتُونِي بِطِيبِ أَنْفُسِ مَنْ بَقِيَ فَمَنْ كَرِهَ فَلَهُ عَلَيَّ كَذَا وَكَذَا مِنَ الْإِبِلِ " إِلَى وَقْتٍ ذَكَرَهُ فَجَاءُوا بِطِيبِ أَنْفُسِهِمْ إِلَّا الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ وَعُيَيْنَةَ بْنَ بَدْرٍ فَإِنَّهُمَا أَبَيَا لِيُعَيِّرَا هَوَازِنَ، فَلَمْ يُكْرِهْهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ، حَتَّى كَانَا هُمَا تَرَكَا بَعْدَ أَنْ خَدَعَ عُيَيْنَةُ عَنْ حَقِّهِ وَسَلَّمَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقَّ مَنْ طَابَ نَفْسُهُ عَنْ حَقِّهِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَهَذَا أَوْلَى الْأُمُورِ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عِنْدَنَا فِي السَّوَادِ وَفُتُوحِهِ إِنْ كَانَتْ عَنْوَةً، وَهَذَا الَّذِي ذَكَرَهُ الشَّافِعِيُّ مِنْ أَمْرِ هَوَازِنَ قَدْ مَضَى فِي حَدِيثِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَفِي رِوَايَةِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ.
حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے جریر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”کیا آپ عراق جائیں گے؟ آپ کو چوتھائی یا تہائی حصہ خمس کے بعد ہر زمین اور ہر چیز سے دیا جائے گا۔“
یہ روایت منقطع ہے اور اس سے پہلے والی موصول ہے، اور سواد عراق کے بارے میں جو آثار ہم نے روایت کیے ہیں ان میں اس سے زیادہ صحیح کوئی نہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث میں اس بات پر دلالت ہے کہ جب جریر بجلی کو اس کے حصے کا عوض دیا گیا جیسے عورت کو اس کے باپ کے حصے کا عوض دیا گیا، یہ ان لوگوں کی خوشی سے تھا جنہوں نے اس پر گھوڑے دوڑائے تھے۔ انہوں نے اپنے حقوق چھوڑ کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دیے۔ امام کے لیے جائز ہے کہ اگر آج کوئی زمین لڑائی سے فتح ہو اور وہ فاتحین کو شمار کر لے اور وہ اپنی خوشی سے اپنے حقوق چھوڑ دیں تو امام اسے وقف کر دے، ان کا حق اس میں چار پانچویں حصے ہیں اور خمس والوں کو ان کا حق پورا دیا جائے، الا یہ کہ ان میں سے بالغ لوگ اپنے حقوق چھوڑ دیں تو یہ امام کے لیے ہو گا۔ اور زمین کا حکم بھی مال کی مانند ہے اور نبی ﷺ نے ہوازن کے لوگ قیدی بنائے اور ان کا مال فاتحین میں تقسیم کر دیا۔ پھر ہوازن کا وفد مسلمان ہو کر آیا تو انہوں نے احسان کرنے کی اپیل کی تو آپ ﷺ نے انہیں قیدیوں اور مال میں سے کسی ایک چیز لینے کا اختیار دیا تو انہوں نے کہا: ”آپ ﷺ نے ہمیں ہمارے نسبوں اور مالوں میں اختیار دیا ہے، ہم اپنے نسبوں کو اختیار کرتے ہیں۔“ رسول اللہ ﷺ نے اپنا اور اہل بیت کا حق چھوڑ دیا۔ جب مہاجرین اور انصار رضی اللہ عنہم نے سنا تو انہوں نے بھی اپنے حقوق چھوڑ دیے، بعد والے مہاجرین اور فتح (مکہ) کے موقع پر مسلمان ہونے والوں میں سے کچھ لوگ باقی رہ گئے تو آپ ﷺ نے ہر دس پر ایک شخص کو نگران مقرر کیا، پھر فرمایا: ”جو باقی رہ گئے ہیں ان کی دلی رضامندی میرے پاس لاؤ، جو ناپسند کرے تو اس کے لیے میرے ذمہ اتنے اتنے اونٹ ہیں۔“ ایک وقت تک جس کا آپ ﷺ نے تعین فرمایا، اقرع بن حابس اور عیینہ بن بدر رضی اللہ عنہما کے علاوہ تمام نے اپنے حقوق چھوڑ دیے۔ ان دونوں نے ہوازن کو عار دلانے کے لیے انکار کیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اس پر مجبور نہیں فرمایا، یہاں تک کہ بعد میں دونوں نے اپنا حق چھوڑ دیا، جبکہ عیینہ کو اس کے حق کے بارے میں دھوکا دیا گیا، اور رسول اللہ ﷺ نے ان (ہوازن) کے حوالے ان لوگوں کا حق کر دیا جنہوں نے اپنی خوشی سے اپنا حق چھوڑ دیا تھا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمارے نزدیک سواد اور اس کی فتوحات کے بارے میں، اگر وہ لڑائی سے ہوئی تھیں، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حق میں یہی سب سے مناسب بات ہے۔
یہ روایت منقطع ہے اور اس سے پہلے والی موصول ہے، اور سواد عراق کے بارے میں جو آثار ہم نے روایت کیے ہیں ان میں اس سے زیادہ صحیح کوئی نہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث میں اس بات پر دلالت ہے کہ جب جریر بجلی کو اس کے حصے کا عوض دیا گیا جیسے عورت کو اس کے باپ کے حصے کا عوض دیا گیا، یہ ان لوگوں کی خوشی سے تھا جنہوں نے اس پر گھوڑے دوڑائے تھے۔ انہوں نے اپنے حقوق چھوڑ کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دیے۔ امام کے لیے جائز ہے کہ اگر آج کوئی زمین لڑائی سے فتح ہو اور وہ فاتحین کو شمار کر لے اور وہ اپنی خوشی سے اپنے حقوق چھوڑ دیں تو امام اسے وقف کر دے، ان کا حق اس میں چار پانچویں حصے ہیں اور خمس والوں کو ان کا حق پورا دیا جائے، الا یہ کہ ان میں سے بالغ لوگ اپنے حقوق چھوڑ دیں تو یہ امام کے لیے ہو گا۔ اور زمین کا حکم بھی مال کی مانند ہے اور نبی ﷺ نے ہوازن کے لوگ قیدی بنائے اور ان کا مال فاتحین میں تقسیم کر دیا۔ پھر ہوازن کا وفد مسلمان ہو کر آیا تو انہوں نے احسان کرنے کی اپیل کی تو آپ ﷺ نے انہیں قیدیوں اور مال میں سے کسی ایک چیز لینے کا اختیار دیا تو انہوں نے کہا: ”آپ ﷺ نے ہمیں ہمارے نسبوں اور مالوں میں اختیار دیا ہے، ہم اپنے نسبوں کو اختیار کرتے ہیں۔“ رسول اللہ ﷺ نے اپنا اور اہل بیت کا حق چھوڑ دیا۔ جب مہاجرین اور انصار رضی اللہ عنہم نے سنا تو انہوں نے بھی اپنے حقوق چھوڑ دیے، بعد والے مہاجرین اور فتح (مکہ) کے موقع پر مسلمان ہونے والوں میں سے کچھ لوگ باقی رہ گئے تو آپ ﷺ نے ہر دس پر ایک شخص کو نگران مقرر کیا، پھر فرمایا: ”جو باقی رہ گئے ہیں ان کی دلی رضامندی میرے پاس لاؤ، جو ناپسند کرے تو اس کے لیے میرے ذمہ اتنے اتنے اونٹ ہیں۔“ ایک وقت تک جس کا آپ ﷺ نے تعین فرمایا، اقرع بن حابس اور عیینہ بن بدر رضی اللہ عنہما کے علاوہ تمام نے اپنے حقوق چھوڑ دیے۔ ان دونوں نے ہوازن کو عار دلانے کے لیے انکار کیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اس پر مجبور نہیں فرمایا، یہاں تک کہ بعد میں دونوں نے اپنا حق چھوڑ دیا، جبکہ عیینہ کو اس کے حق کے بارے میں دھوکا دیا گیا، اور رسول اللہ ﷺ نے ان (ہوازن) کے حوالے ان لوگوں کا حق کر دیا جنہوں نے اپنی خوشی سے اپنا حق چھوڑ دیا تھا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمارے نزدیک سواد اور اس کی فتوحات کے بارے میں، اگر وہ لڑائی سے ہوئی تھیں، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حق میں یہی سب سے مناسب بات ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الدَّامَغَانِيُّ بِبَيْهَقَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ هَارُونُ بْنُ يُوسُفَ الْقَطِيعِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مُثِّلَتْ لِيَ الْحِيرَةُ كَأَنْيَابِ الْكِلَابِ، وَإِنَّكُمْ سَتَفْتَحُونَهَا ". فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَبْ لِيَ ابْنَةَ بَقِيلَةَ. قَالَ: " هِيَ لَكَ ". فَأَعْطَوْهُ إِيَّاهَا فَجَاءَ أَبُوهَا فَقَالَ: أَتَبِيعُهَا؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: بِكَمْ؟ احْكُمْ مَا شِئْتَ. قَالَ: أَلْفُ دِرْهَمٍ. قَالَ: قَدْ أَخَذْتُهَا. قَالُوا لَهُ: لَوْ قُلْتَ ثَلَاثِينَ أَلْفًا لَأَخَذَهَا. قَالَ: وَهَلْ عَدَدٌ أَكْثَرُ مِنْ أَلْفٍ؟. تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ أَبِي عُمَرَ عَنْ سُفْيَانَ هَكَذَا، وَقَالَ غَيْرُهُ عَنْهُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ⦗٢٣٠⦘ وَالْمَشْهُورُ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ خُرَيْمِ بْنِ أَوْسٍ، وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْمَرْأَةَ، وَقَدْ رُوِّينَا فِي كِتَابِ دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ فِي آخِرِ غَزْوَةِ تَبُوكَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”حیرہ شہر میرے سامنے کتوں کی کچلیوں کی مانند ظاہر کیا گیا اور تم اس کو فتح کرو گے۔“ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر کہا: اے اللہ کے نبی! بقیلہ کی بیٹی مجھے ہبہ کر دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تیری ہے۔“ آپ ﷺ نے اس کو دے دی۔ پھر اس کا باپ آیا، کہنے لگا: کیا فروخت کرو گے؟ اس نے پوچھا: کتنے کی؟ اس نے کہا: جو چاہو فیصلہ کر لو۔ اس نے کہا: ہزار درہم۔ اس نے کہا: میں نے خرید لی ہے۔ انہوں نے کہا: اگر وہ تیس ہزار بھی مانگتا تب بھی وہ خرید لیتے۔ اس نے کہا: کیا ہزار سے بڑا عدد بھی کوئی ہے؟
اس روایت کو سفیان سے اس طرح بیان کرنے میں ابن ابی عمر منفرد ہیں، دوسروں نے اسے سفیان سے علی بن زید بن جدعان کے واسطے سے بیان کیا ہے۔
(ب) مشہور یہ ہے کہ یہ حدیث خریم بن اوس سے ہے، یہ وہ شخص ہے جس کو رسول اللہ ﷺ نے یہ عورت دی تھی۔
اس روایت کو سفیان سے اس طرح بیان کرنے میں ابن ابی عمر منفرد ہیں، دوسروں نے اسے سفیان سے علی بن زید بن جدعان کے واسطے سے بیان کیا ہے۔
(ب) مشہور یہ ہے کہ یہ حدیث خریم بن اوس سے ہے، یہ وہ شخص ہے جس کو رسول اللہ ﷺ نے یہ عورت دی تھی۔