حدیث نمبر: 18367
قَالَ: وَحَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّبَيْدِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ الْأَسَدِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ سُئِلَ فِي زَمَنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَهْلِ السَّوَادِ، أَلَهُمْ عَهْدٌ؟ قَالَ: لَمْ يَكُنْ لَهُمْ عَهْدٌ، فَلَمَّا رُضِيَ مِنْهُمْ بِالْخَرَاجِ صَارَ لَهُمُ الْعَهْدُ.
حافظ ثناء اللہ

محمد بن قیس اسدی، امام شعبی رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے دور میں اہل سواد کے بارے میں پوچھا گیا: کیا ان کے لیے کوئی عہد تھا؟ کہتے ہیں کہ ان کے لیے نہیں تھا، جب رضا مندی سے خراج لیا جانے لگا تو ان کے لیے معاہدہ بن گیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18367
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»