حدیث نمبر: 18357
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَا أَعْرِفُ مَا أَقُولُ فِي أَرْضِ السَّوَادِ إِلَّا ظَنًّا مَقْرُونًا إِلَى عِلْمٍ، وَذَلِكَ أَنِّي وَجَدْتُ أَصَحَّ حَدِيثٍ يَرْوِيهِ الْكُوفِيُّونَ عِنْدَهُمْ فِي السَّوَادِ لَيْسَ فِيهِ بَيَانٌ، وَوَجَدْتُ أَحَادِيثَ مِنْ أَحَادِيثِهِمْ تُخَالِفُهُ مِنْهَا أَنَّهُمْ يَقُولُونَ: السَّوَادُ صُلْحٌ، وَيَقُولُونَ: السَّوَادُ عَنْوَةٌ، وَيَقُولُونَ: بَعْضُ السَّوَادِ صُلْحٌ وَبَعْضُهُ عَنْوَةٌ.
حافظ ثناء اللہ

امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں صلح والی زمین کے بارے میں کیا کہوں کہ اس میں ظن اور علم دونوں ملے ہوئے ہیں، میں نے صحیح احادیث دیکھی ہیں جن کو کوفی روایت کرتے ہیں ان میں لفظ «سواد» کا بیان نہیں ہے لیکن ان کے مخالف احادیث ہیں جن میں لفظ «سواد» کا معنیٰ صلح کیا گیا ہے اور بعض کے نزدیک «سواد» کا معنیٰ زبردستی ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18357
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»