السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: المبارزة باب: مبارزت (میدانِ جنگ میں تن بہ تن مقابلے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 18348
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ يَحْيَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ الْعُكْلِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ فَذَكَرَ بَعْضَ الْقِصَّةِ قَالَ: ثُمَّ دَعَا بِاللِّوَاءِ فَدَعَا عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ، فَمَسَحَهُمَا ثُمَّ دَفَعَ إِلَيْهِ اللِّوَاءَ فَفُتِحَ لَهُ، فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ بُرَيْدَةَ يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ كَانَ صَاحِبَ مَرْحَبٍ.حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد (رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ جب خیبر کا دن ہوا، (راوی نے) قصے کا بعض حصہ ذکر کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ نے جھنڈا منگوایا اور علی رضی اللہ عنہ کو بلوایا، ان کی آنکھیں خراب تھیں، آپ ﷺ نے ان پر ہاتھ پھیرا، پھر علی رضی اللہ عنہ کو جھنڈا دیا، جن کے ہاتھ پر فتح ہوئی۔ عبداللہ بن بریدہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے بیان کیا کہ وہ مرحب کا ساتھی تھا۔