السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: بيع السبي من أهل الشرك باب: اہلِ شرک کے ہاتھ قیدیوں کو فروخت کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْأَسْفَاطِيُّ يَعْنِي الْعَبَّاسَ بْنَ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عِكْرِمَةُ، حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَأَمَّرَهُ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَغَزَوْنَا فَزَارَةَ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنَ الْمَاءِ أَمَرَنَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَعَرَّسْنَا، فَلَمَّا صَلَّيْنَا الصُّبْحَ أَمَرَنَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَشَنَنَّا الْغَارَةَ فَنَزَلْنَا عَلَى الْمَاءِ، قَالَ سَلَمَةُ فَنَظَرْتُ إِلَى عُنُقٍ مِنَ النَّاسِ فِيهِمُ الذُّرِّيَّةُ وَالنِّسَاءُ، فَخَشِيتُ أَنْ يَسْبِقُونِي إِلَى الْجَبَلِ فَأَخَذْتُ آثَارَهُمْ فَرَمَيْتُ بِسَهْمٍ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْجَبَلِ، فَقَامُوا فَجِئْتُ أَسُوقُهُمْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَفِيهِمُ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ عَلَيْهَا قَشْعٌ مِنْ أَدَمٍ وَمَعَهَا ابْنَةٌ لَهَا مِنْ أَحْسَنِ الْعَرَبِ فَنَفَلَنِي أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ابْنَتَهَا، فَمَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا حَتَّى قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ وَلَمْ أَكْشِفْ لَهَا ثَوْبًا، وَلَقِيَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ فَقَالَ: " يَا سَلَمَةُ هَبْ لِي الْمَرْأَةَ ". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ لَقَدْ أَعْجَبَتْنِي وَمَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا حَتَّى قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَسَكَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَرَكَنِي، حَتَّى إِذَا كَانَ مِنَ الْغَدِ لَقِيَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ، فَقَالَ لِي: " يَا سَلَمَةُ هَبْ لِيَ الْمَرْأَةَ لِلَّهِ أَبُوكَ ". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ لَقَدْ أَعْجَبَتْنِي، وَاللهِ مَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا وَهِيَ لَكَ يَا رَسُولَ اللهِ. قَالَ: فَبَعَثَ بِهَا إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ فَفَدَى بِهَا رِجَالًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ بِأَيْدِيهِمْ. ⦗٢١٨⦘ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ يُونُسَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: أَرَأَيْتَ صِلَةَ أَهْلِ الْحَرْبِ بِالْمَالِ وَإِطْعَامَهُمُ الطَّعَامَ أَلَيْسَ بِأَقْوَى لَهُمْ فِي كَثِيرٍ مِنَ الْحَالِاتِ مِنْ بَيْعِ عَبْدٍ أَوْ عَبْدَيْنِ مِنْهُمْ، فَقَدْ أَذِنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَقَالَتْ: إِنَّ أُمِّي أَتَتْنِي وَهِيَ رَاغِبَةٌ فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ أَفَأَصِلُهَا؟ قَالَ: " نَعَمْ "..ایاس بن سلمہ بن اکوع اپنے والد (سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ ہم اپنے امیر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے۔ ہم نے بنو فزارہ سے غزوہ کیا۔ جب ہم ان کے پانی کے قریب پہنچے تو ہم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حکم سے پڑاؤ کیا۔ جب صبح کی نماز پڑھی تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حملے کا حکم دے دیا۔ ہم پانی پر آئے۔ سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ایک اونچی جگہ پر لوگوں کو دیکھا، جن میں بچے اور عورتیں تھیں۔ میں ڈرا کہ کہیں وہ مجھ سے پہلے پہاڑ پر نہ چڑھ جائیں تو میں ان کے پیچھے چلا۔ ان کے اور پہاڑ کے درمیان تیر پھینکا تو وہ کھڑے ہو گئے۔ میں ان کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا۔ ان میں بنو فزارہ کی ایک عورت تھی جس پر چمڑے کا لباس تھا اور اس کے ساتھ عرب کی حسین ترین بیٹی بھی تھی، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی بیٹی مجھے زائد دے دی۔ میں نے اس کے کپڑے کو مدینہ آنے تک نہ کھولا۔ رسول اللہ ﷺ مجھے بازار میں ملے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے سلمہ! عورت مجھے ہبہ کر دو۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ مجھے اچھی لگتی ہے اور میں نے اس کا کپڑا بھی نہیں اٹھایا۔ رسول اللہ ﷺ خاموش ہو گئے اور مجھے چھوڑ کر چلے گئے اور دوسرے دن صبح پھر رسول اللہ ﷺ مجھے بازار میں ملے اور فرمایا: ”اے سلمہ! عورت مجھے ہبہ کر دو، «لِلّٰهِ دَرُّ أَبِيکَ» ”اللہ کے لیے تیرے باپ کی خوبی ہے۔“” میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ مجھے اچھی لگتی ہے، اور اللہ کی قسم! میں نے ابھی تک اس کا کپڑا نہیں اٹھایا، اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ آپ کے لیے ہے۔ راوی کہتے ہیں: نبی ﷺ نے مکہ والوں کی طرف اس کو روانہ کر دیا اور اس کے عوض بہت سارے مسلمان ان کے ہاتھوں سے آزاد کروائے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آپ کا کیا خیال ہے کہ لڑائی والے مال یا کھانے سے صلہ رحمی زیادہ قوی نہیں ہے، بعض حالات میں جبکہ ایک یا دو غلام ان سے فروخت کر دیے جائیں؟
رسول اللہ ﷺ نے سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کو اجازت دی تھی، جب انہوں نے عرض کیا کہ میری والدہ میرے پاس آئی ہیں اور یہ مشرکہ ہیں، کیا میں ان سے صلہ رحمی کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“