حدیث نمبر: 18328
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: سَبَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَ بَنِي قُرَيْظَةَ وَذَرَارِيَّهُمْ وَبَاعَهُمْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَاشْتَرَى أَبُو الشَّحْمِ الْيَهُودِيُّ أَهْلَ بَيْتٍ، عَجُوزًا وَوَلَدَهَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا بَقِيَ مِنَ السَّبْيِ أَثْلَاثًا، ثُلُثًا إِلَى تِهَامَةَ، وَثُلُثًا إِلَى نَجْدٍ، وَثُلُثًا إِلَى طَرِيقِ الشَّامِ، فَبِيعُوا بِالْخَيْلِ وَالسِّلَاحِ وَالْإِبِلِ وَالْمَالِ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے بنو قریظہ کی عورتوں اور ان کی اولاد کو قیدی بنایا اور مشرکین کو فروخت کر دیا۔ ابو شحم یہودی نے ایک بوڑھیا اور اس کے بچے نبی ﷺ سے خریدے اور باقی قیدیوں کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا۔ دو ثلث تہامہ، ایک ثلث نجد اور ایک ثلث شام کی جانب روانہ کر دیا اور فرمایا: ”گھوڑوں، اسلحہ، اونٹ اور مال کے بدلے فروخت کر دو۔“
حدیث نمبر: 18329
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ فِي قِصَّةِ قُرَيْظَةَ قَالَ: ثُمَّ بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْدَ بْنَ زَيْدٍ أَخَا بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ بِسَبَايَا بَنِي قُرَيْظَةَ إِلَى نَجْدٍ، فَابْتَاعَ لَهُمْ بِهِمْ خَيْلًا وَسِلَاحًا قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَكَذَلِكَ النِّسَاءُ الْبَوَالِغُ قَدِ اسْتَوْهَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَارِيَةً بَالِغَةً مِنْ أَصْحَابِهِ فَفَدَى بِهَا رَجُلَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ
ابن اسحاق قریظہ کے قصے میں بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سعد بن زید رضی اللہ عنہ کو، جو بنو عبدالأشہل کے بھائی ہیں، بنو قریظہ کے قیدی دے کر نجد کی جانب روانہ کیا کہ ”ان کے عوض گھوڑے اور اسلحہ خریدو۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کو ایک بالغ لونڈی عطا کی جو انہوں نے دو آدمیوں کے عوض فدیہ میں دی۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کو ایک بالغ لونڈی عطا کی جو انہوں نے دو آدمیوں کے عوض فدیہ میں دی۔
حدیث نمبر: 18330
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْأَسْفَاطِيُّ يَعْنِي الْعَبَّاسَ بْنَ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عِكْرِمَةُ، حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَأَمَّرَهُ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَغَزَوْنَا فَزَارَةَ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنَ الْمَاءِ أَمَرَنَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَعَرَّسْنَا، فَلَمَّا صَلَّيْنَا الصُّبْحَ أَمَرَنَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَشَنَنَّا الْغَارَةَ فَنَزَلْنَا عَلَى الْمَاءِ، قَالَ سَلَمَةُ فَنَظَرْتُ إِلَى عُنُقٍ مِنَ النَّاسِ فِيهِمُ الذُّرِّيَّةُ وَالنِّسَاءُ، فَخَشِيتُ أَنْ يَسْبِقُونِي إِلَى الْجَبَلِ فَأَخَذْتُ آثَارَهُمْ فَرَمَيْتُ بِسَهْمٍ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْجَبَلِ، فَقَامُوا فَجِئْتُ أَسُوقُهُمْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَفِيهِمُ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ عَلَيْهَا قَشْعٌ مِنْ أَدَمٍ وَمَعَهَا ابْنَةٌ لَهَا مِنْ أَحْسَنِ الْعَرَبِ فَنَفَلَنِي أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ابْنَتَهَا، فَمَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا حَتَّى قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ وَلَمْ أَكْشِفْ لَهَا ثَوْبًا، وَلَقِيَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ فَقَالَ: " يَا سَلَمَةُ هَبْ لِي الْمَرْأَةَ ". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ لَقَدْ أَعْجَبَتْنِي وَمَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا حَتَّى قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَسَكَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَرَكَنِي، حَتَّى إِذَا كَانَ مِنَ الْغَدِ لَقِيَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ، فَقَالَ لِي: " يَا سَلَمَةُ هَبْ لِيَ الْمَرْأَةَ لِلَّهِ أَبُوكَ ". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ لَقَدْ أَعْجَبَتْنِي، وَاللهِ مَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا وَهِيَ لَكَ يَا رَسُولَ اللهِ. قَالَ: فَبَعَثَ بِهَا إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ فَفَدَى بِهَا رِجَالًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ بِأَيْدِيهِمْ. ⦗٢١٨⦘ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ يُونُسَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: أَرَأَيْتَ صِلَةَ أَهْلِ الْحَرْبِ بِالْمَالِ وَإِطْعَامَهُمُ الطَّعَامَ أَلَيْسَ بِأَقْوَى لَهُمْ فِي كَثِيرٍ مِنَ الْحَالِاتِ مِنْ بَيْعِ عَبْدٍ أَوْ عَبْدَيْنِ مِنْهُمْ، فَقَدْ أَذِنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَقَالَتْ: إِنَّ أُمِّي أَتَتْنِي وَهِيَ رَاغِبَةٌ فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ أَفَأَصِلُهَا؟ قَالَ: " نَعَمْ "..
حافظ ثناء اللہ
ایاس بن سلمہ بن اکوع اپنے والد (سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ ہم اپنے امیر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے۔ ہم نے بنو فزارہ سے غزوہ کیا۔ جب ہم ان کے پانی کے قریب پہنچے تو ہم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حکم سے پڑاؤ کیا۔ جب صبح کی نماز پڑھی تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حملے کا حکم دے دیا۔ ہم پانی پر آئے۔ سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ایک اونچی جگہ پر لوگوں کو دیکھا، جن میں بچے اور عورتیں تھیں۔ میں ڈرا کہ کہیں وہ مجھ سے پہلے پہاڑ پر نہ چڑھ جائیں تو میں ان کے پیچھے چلا۔ ان کے اور پہاڑ کے درمیان تیر پھینکا تو وہ کھڑے ہو گئے۔ میں ان کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا۔ ان میں بنو فزارہ کی ایک عورت تھی جس پر چمڑے کا لباس تھا اور اس کے ساتھ عرب کی حسین ترین بیٹی بھی تھی، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی بیٹی مجھے زائد دے دی۔ میں نے اس کے کپڑے کو مدینہ آنے تک نہ کھولا۔ رسول اللہ ﷺ مجھے بازار میں ملے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے سلمہ! عورت مجھے ہبہ کر دو۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ مجھے اچھی لگتی ہے اور میں نے اس کا کپڑا بھی نہیں اٹھایا۔ رسول اللہ ﷺ خاموش ہو گئے اور مجھے چھوڑ کر چلے گئے اور دوسرے دن صبح پھر رسول اللہ ﷺ مجھے بازار میں ملے اور فرمایا: ”اے سلمہ! عورت مجھے ہبہ کر دو، «لِلّٰهِ دَرُّ أَبِيکَ» ”اللہ کے لیے تیرے باپ کی خوبی ہے۔“” میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ مجھے اچھی لگتی ہے، اور اللہ کی قسم! میں نے ابھی تک اس کا کپڑا نہیں اٹھایا، اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ آپ کے لیے ہے۔ راوی کہتے ہیں: نبی ﷺ نے مکہ والوں کی طرف اس کو روانہ کر دیا اور اس کے عوض بہت سارے مسلمان ان کے ہاتھوں سے آزاد کروائے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آپ کا کیا خیال ہے کہ لڑائی والے مال یا کھانے سے صلہ رحمی زیادہ قوی نہیں ہے، بعض حالات میں جبکہ ایک یا دو غلام ان سے فروخت کر دیے جائیں؟
رسول اللہ ﷺ نے سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کو اجازت دی تھی، جب انہوں نے عرض کیا کہ میری والدہ میرے پاس آئی ہیں اور یہ مشرکہ ہیں، کیا میں ان سے صلہ رحمی کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آپ کا کیا خیال ہے کہ لڑائی والے مال یا کھانے سے صلہ رحمی زیادہ قوی نہیں ہے، بعض حالات میں جبکہ ایک یا دو غلام ان سے فروخت کر دیے جائیں؟
رسول اللہ ﷺ نے سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کو اجازت دی تھی، جب انہوں نے عرض کیا کہ میری والدہ میرے پاس آئی ہیں اور یہ مشرکہ ہیں، کیا میں ان سے صلہ رحمی کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“
حدیث نمبر: 18331
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَتْ: أَتَتْنِي أُمِّي رَاغِبَةً فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصِلُهَا؟ قَالَ: " نَعَمْ " أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ كَمَا مَضَى قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَأَذِنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَكَسَا ذَا قَرَابَةٍ لَهُ مُشْرِكًا بِمَكَّةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میری والدہ قریش کے دین میں رغبت رکھتی تھیں، میں نے رسول اللہ ﷺ سے ان سے صلہ رحمی کے بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، صلہ رحمی کرو۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اجازت دی کہ وہ مکہ میں اپنے مشرک قرابت داروں کو کپڑے پہنا دیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اجازت دی کہ وہ مکہ میں اپنے مشرک قرابت داروں کو کپڑے پہنا دیں۔
حدیث نمبر: 18332
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَأَى حُلَّةً سِيَرَاءَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ لَوِ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلِلْوُفُودِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ ". ثُمَّ جَاءَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا حُلَلٌ فَأَعْطَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْهَا حُلَّةً، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ كَسَوْتَنِيهَا وَقَدْ قُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدَ مَا قُلْتَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا ". فَكَسَاهَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخًا لَهُ مُشْرِكًا بِمَكَّةَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى عَنْ مَالِكٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَالَ اللهُ تَعَالَى: {وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا} [الإنسان: ٨].
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مسجد کے دروازے کے پاس دھاری دار حلہ دیکھا تو کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ ﷺ اس کو خرید کر جمعہ اور وفود کے لیے پہن لیا کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو وہ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔“ پھر آپ ﷺ کے پاس حلے آئے تو آپ ﷺ نے ایک حلہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دے دیا۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے مجھے حلہ پہنا دیا ہے حالانکہ عطارد کے حلہ کے بارے میں آپ نے فرمایا تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تجھے پہننے کے لیے نہیں دیا“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے مشرک بھائی کو دے دیا جو مکہ میں تھا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا﴾ [سورة الإنسان: 8] ”وہ اللہ کی محبت کی بنا پر مسکینوں، یتیموں، قیدیوں کو کھانا کھلاتے ہیں۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا﴾ [سورة الإنسان: 8] ”وہ اللہ کی محبت کی بنا پر مسکینوں، یتیموں، قیدیوں کو کھانا کھلاتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 18333
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عُثْمَانَ الْبَتِّيِّ، عَنِ الْحَسَنِ فِي قَوْلِهِ: {وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا} [الإنسان: ٨] قَالَ: كَانُوا مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت حسن رحمہ اللہ اس قول کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ﴿وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا﴾ [سورة الإنسان: 8] ”وہ اللہ کی محبت کی وجہ سے مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے ہیں، مراد مشرکوں کو۔“