❮
❯
حدیث نمبر: 18312
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اسْتَعْمَلَ شُرَحْبِيلَ بْنَ السِّمْطِ عَلَى الْمَدَائِنِ وَأَبُوهُ بِالشَّامِ، فَكَتَبَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّكَ تَأْمُرُ أَنْ لَا يُفَرَّقَ بَيْنَ السَّبَايَا وَبَيْنَ أَوْلَادِهِنَّ، فَإِنَّكَ قَدْ فَرَّقْتَ بَيْنِي وَبَيْنَ أَبِي. فَكَتَبَ إِلَيْهِ فَأَلْحَقَهُ بِأَبِيهِ.
حافظ ثناء اللہ

امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا شرحبیل بن سمط رضی اللہ عنہما کو مدائن کا عامل مقرر کیا جبکہ ان کے والد شام میں تھے، تو انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ آپ نے حکم دیا ہے کہ قیدیوں اور ان کی اولاد کے درمیان تفریق نہ کی جائے، حالانکہ آپ نے میرے اور میرے والد کے درمیان تفریق کر دی ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھ کر ان کے والد کے پاس بھیج دیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18312
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»