السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: التفريق بين المرأة وولدها باب: (قیدی) عورت اور اس کی اولاد کے درمیان (خرید و فروخت کے ذریعے) جدائی ڈالنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 18311
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ ضُمَيْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ ضُمَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِأُمِّ ضُمَيْرَةَ وَهِيَ تَبْكِي فَقَالَ: " مَا يُبْكِيكِ؟ أَجَائِعَةٌ أَنْتِ أَمْ عَارِيَةٌ أَنْتِ؟ " فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ فُرِّقَ بَيْنِي وَبَيْنَ ابْنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُفَرَّقُ بَيْنَ وَالِدَةٍ وَوَلَدِهَا ". ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى الَّذِي عِنْدَهُ ضُمَيْرَةُ، فَدَعَاهُ فَابْتَاعَهُ مِنْهُ بِبَكْرَةٍ.حافظ ثناء اللہ
حسین بن عبداللہ بن ضمیرہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ضمیرہ کی والدہ کے پاس سے گزرے وہ رو رہی تھیں آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تو بھوکی ہے یا تجھے کوئی پریشانی ہے؟“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے اور بچے کے درمیان تفریق کر دی گئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”والدہ اور بچے کے درمیان تفریق نہ کی جائے۔“ پھر آپ ﷺ نے اس شخص کی جانب (پیغام) بھیجا جس کے پاس ضمیرہ تھا تو اس سے آپ ﷺ نے اس کو خرید لیا۔