❮
❯
حدیث نمبر: 18298
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ مَوْلَى تُجِيبَ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ أَبِي رُوَيْفِعٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْمَغْرِبَ، فَافْتَتَحَ قَرْيَةً فَقَامَ خَطِيبًا فَقَالَ: إِنِّي لَا أَقُولُ فِيكُمْ إِلَّا مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِينَا يَوْمَ خَيْبَرَ قَامَ فِينَا عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ: " لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْقِيَ مَاءَهُ زَرْعَ غَيْرِهِ " يَعْنِي إِتْيَانَ الْحَبَالَى مِنَ الْفَيْءِ، " وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يُصِيبَ امْرَأَةً مِنَ السَّبْيِ ثَيِّبًا حَتَّى يَسْتَبْرِئَهَا، وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَبِيعَ مَغْنَمًا حَتَّى يُقْسَمَ، وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَرْكَبَ دَابَّةً مِنْ فَيْءِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى إِذَا أَعْجَفَهَا رَدَّهَا فِيهِ، وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَلْبَسَ ثَوْبًا مِنْ فَيْءِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى إِذَا أَخْلَقَهُ رَدَّهُ ". كَذَا قَالَ يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ يَوْمَ خَيْبَرَ، وَإِنَّمَا هُوَ يَوْمَ حُنَيْنٍ، كَذَلِكَ رَوَاهُ غَيْرُهُ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ غَيْرُ ابْنِ إِسْحَاقَ، وَقَالَ غَيْرُهُ: رُوَيْفِعُ بْنُ ثَابِتٍ وَهُوَ الصَّحِيحُ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَدَلَّ ذَلِكَ عَلَى أَنَّ السِّبَاءَ نَفْسَهُ انْقِطَاعُ الْعِصْمَةِ بَيْنَ الزَّوْجَيْنِ، وَذَلِكَ أَنَّهُ لَا يَأْمُرُ بِوَطْءِ ذَاتِ زَوْجٍ بَعْدَ حَيْضَةٍ إِلَّا وَذَلِكَ قَطَعَ الْعِصْمَةَ، وَقَدْ ذَكَرَ ابْنُ مَسْعُودٍ أَنَّ قَوْلَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ} [النساء: ٢٤] ذَوَاتُ الْأَزْوَاجِ اللَّاتِي مَلَكْتُمُوهُنَّ بِالسِّبَاءِ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَرُوِّينَا فِي كِتَابِ النِّكَاحِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ نَحْوَ قَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ

حنش صنعانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے سیدنا رویفع انصاری رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر مغرب (کے علاقے) میں غزوہ کیا۔ ایک بستی فتح ہوگئی تو انہوں نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور کہا: میں تم سے صرف وہی بات کہوں گا جو میں نے خیبر میں رسول اللہ ﷺ سے سنی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کسی مومن کے لیے جائز نہیں کہ وہ غیر کی کھیتی کو پانی دے، یعنی حاملہ عورت سے وطء نہ کرے اور کسی مومن کے لیے یہ بھی جائز نہیں کہ استبراءِ رحم کے بغیر کسی شوہر دیدہ قیدی عورت سے ہم بستری کرے اور کسی مومن کے لیے جس کا اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان ہے یہ جائز نہیں کہ مالِ غنیمت کو تقسیم ہونے سے پہلے فروخت کرے اور کسی مومن کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے یہ جائز نہیں مالِ فیء کی سواری لے کر دبلی پتلی یعنی کمزور کر کے واپس کرے اور نہ ہی کسی مسلمان کے لیے یہ جائز ہے کہ جس کا اللہ اور آخرت کے دن پر یقین ہے کہ وہ مالِ فیء سے کپڑے حاصل کر کے پہنے اور بوسیدہ کر کے واپس کر دے۔“
یونس بن بکیر نے اسی طرح 'خیبر کا دن' کہا ہے، حالانکہ یہ حنین کا دن تھا، ابن اسحاق سے دوسرے راویوں نے اور ابن اسحاق کے علاوہ دوسروں نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے، اور دوسروں نے 'رویفع بن ثابت' کہا ہے اور یہی صحیح ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قید ہو جانا ہی میاں بیوی کے درمیان نکاح کا رشتہ ختم کر دیتا ہے، کیونکہ آپ ﷺ کسی شوہر والی عورت سے ایک حیض کے بعد ہمبستری کا حکم تبھی دے سکتے ہیں جب یہ رشتہ ختم ہو چکا ہو۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ [سورة النساء: 24] سے مراد ”وہ خاوند والی عورتیں ہیں جن کو لونڈی بنا کر تم ان کے مالک بنے ہو۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18298
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»