حدیث نمبر: 18297
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: سَبَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيَ أَوْطَاسٍ، وَسَبْيَ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، وَأَسَرَ مِنْ رِجَالِ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ وَقَسَمَ السَّبْيَ، فَأَمَرَ أَنْ لَا تُوطَأَ حَامِلٌ حَتَّى تَضَعَ، وَلَا حَائِلٌ حَتَّى تَحِيضَ، وَلَمْ يَسْأَلْ عَنْ ذَاتِ زَوْجٍ وَلَا غَيْرِهَا، وَلَا هَلْ سُبِيَ زَوْجٌ مَعَ امْرَأَتِهِ وَلَا غَيْرُهُ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے اوطاس کے قیدیوں اور بنو المصطلق کے قیدیوں کو گرفتار کیا، اور ان دونوں قبیلوں کے مردوں کو بھی قیدی بنایا، اور قیدیوں کو تقسیم فرمایا، پھر آپ ﷺ نے حکم دیا کہ کسی حاملہ (لونڈی) سے وضع حمل تک اور غیر حاملہ سے ایک حیض آنے تک ہمبستری نہ کی جائے، اور آپ ﷺ نے یہ نہیں پوچھا کہ کون شوہر والی ہے اور کون نہیں، اور نہ یہ پوچھا کہ کیا کسی کا شوہر بھی اس کی بیوی کے ساتھ قید ہوا ہے یا نہیں۔“
حدیث نمبر: 18297
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، أنبأ شَرِيكٌ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ وَالْمُجَالِدِ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَصَبْنَا سَبَايَا يَوْمَ ⦗٢٠٩⦘ أَوْطَاسٍ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُوطَأُ حَامِلٌ حَتَّى تَضَعَ حَمْلَهَا وَلَا غَيْرُ حَامِلٍ حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اوطاس کے دن ہمیں لونڈیاں ملیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حاملہ کے ساتھ وضع حمل سے پہلے ہمبستری نہ کی جائے اور غیر حاملہ سے ایک حیض آنے تک۔“
حدیث نمبر: 18298
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ مَوْلَى تُجِيبَ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ أَبِي رُوَيْفِعٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْمَغْرِبَ، فَافْتَتَحَ قَرْيَةً فَقَامَ خَطِيبًا فَقَالَ: إِنِّي لَا أَقُولُ فِيكُمْ إِلَّا مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِينَا يَوْمَ خَيْبَرَ قَامَ فِينَا عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ: " لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْقِيَ مَاءَهُ زَرْعَ غَيْرِهِ " يَعْنِي إِتْيَانَ الْحَبَالَى مِنَ الْفَيْءِ، " وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يُصِيبَ امْرَأَةً مِنَ السَّبْيِ ثَيِّبًا حَتَّى يَسْتَبْرِئَهَا، وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَبِيعَ مَغْنَمًا حَتَّى يُقْسَمَ، وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَرْكَبَ دَابَّةً مِنْ فَيْءِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى إِذَا أَعْجَفَهَا رَدَّهَا فِيهِ، وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَلْبَسَ ثَوْبًا مِنْ فَيْءِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى إِذَا أَخْلَقَهُ رَدَّهُ ". كَذَا قَالَ يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ يَوْمَ خَيْبَرَ، وَإِنَّمَا هُوَ يَوْمَ حُنَيْنٍ، كَذَلِكَ رَوَاهُ غَيْرُهُ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ غَيْرُ ابْنِ إِسْحَاقَ، وَقَالَ غَيْرُهُ: رُوَيْفِعُ بْنُ ثَابِتٍ وَهُوَ الصَّحِيحُ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَدَلَّ ذَلِكَ عَلَى أَنَّ السِّبَاءَ نَفْسَهُ انْقِطَاعُ الْعِصْمَةِ بَيْنَ الزَّوْجَيْنِ، وَذَلِكَ أَنَّهُ لَا يَأْمُرُ بِوَطْءِ ذَاتِ زَوْجٍ بَعْدَ حَيْضَةٍ إِلَّا وَذَلِكَ قَطَعَ الْعِصْمَةَ، وَقَدْ ذَكَرَ ابْنُ مَسْعُودٍ أَنَّ قَوْلَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ} [النساء: ٢٤] ذَوَاتُ الْأَزْوَاجِ اللَّاتِي مَلَكْتُمُوهُنَّ بِالسِّبَاءِ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَرُوِّينَا فِي كِتَابِ النِّكَاحِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ نَحْوَ قَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
حنش صنعانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے سیدنا رویفع انصاری رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر غزوہ کیا۔ ایک بستی فتح ہوگئی تو انہوں نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور کہا: میں تم سے صرف وہی بات کہوں گا جو میں نے خیبر میں رسول اللہ ﷺ سے سنی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کسی مومن کے لیے جائز نہیں کہ وہ غیر کی کھیتی کو پانی دے، یعنی حاملہ عورت سے وطء نہ کرے اور کسی مومن کے لیے یہ بھی جائز نہیں کہ استبراءِ رحم کے بغیر کسی قیدی عورت سے ہم بستری کرے اور کسی مومن کے لیے جس کا اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان ہے یہ جائز نہیں کہ مالِ غنیمت کو تقسیم ہونے سے پہلے فروخت کرے اور کسی مومن کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے یہ جائز نہیں مالِ فیء کی سواری لے کر دبلی پتلی یعنی کمزور کر کے واپس کرے اور نہ ہی کسی مسلمان کے لیے یہ جائز ہے کہ جس کا اللہ اور آخرت کے دن پر یقین ہے کہ وہ مالِ فیء سے کپڑے حاصل کر کے پہنے اور بوسیدہ کر کے واپس کر دے۔“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ نبی کریم ﷺ نے اس لیے حکم دیا تاکہ دو خاوندوں کے درمیان عصمت ختم ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ [سورة النساء: 24] ”وہ خاوند والی عورتیں جن کو لونڈی بنا کر تم ان کے مالک بنے ہو۔“
حدیث نمبر: 18299
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، أَنَّ أَبَا عَلْقَمَةَ الْهَاشِمِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً يَوْمَ حُنَيْنٍ فَأَصَابُوا جَيْشًا مِنَ الْعَرَبِ يَوْمَ أَوْطَاسٍ، فَقَاتَلُوهُمْ وَهَزَمُوهُمْ، فَأَصَابُوا نِسَاءً لَهُنَّ أَزْوَاجٌ، وَكَأَنَّ أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَأَثَّمُوا مِنْ غَشَيَانِهِنَّ مِنْ أَجْلِ أَزْوَاجِهِنَّ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ} [النساء: ٢٤] فَهُنَّ لَكُمْ حَلَالٌ. ⦗٢١٠⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حنین کے دن ایک سریہ روانہ فرمایا، جن کی لڑائی اوطاس کے دن عرب کے ایک لشکر سے ہوئی جن کو شکست ہوئی۔ عورتیں قیدی بنیں جن کے خاوند بھی تھے تو صحابہ نے ان کے خاوندوں کی وجہ سے ان سے ہم بستری کرنے کو گناہ خیال کیا تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ [سورة النساء: 24] کہ یہ تمہارے لیے حلال ہیں۔
حدیث نمبر: 18300
وَأَخْرَجَهُ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ الْقَوَارِيرِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، بِمَعْنَاهُ، " زَادَ فِيهِ: أَيْ فَهُنَّ لَهُمْ حَلَالٌ إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهُنَّ ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا سَعِيدٌ، فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن ابی عروبہ رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ یہ ان کے لیے حلال ہیں جب عدت ختم ہو جائے۔