السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: المرأة تسبى مع زوجها باب: اس عورت کا بیان جو اپنے شوہر کے ساتھ قید کی جائے۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: سَبَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيَ أَوْطَاسٍ، وَسَبْيَ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، وَأَسَرَ مِنْ رِجَالِ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ وَقَسَمَ السَّبْيَ، فَأَمَرَ أَنْ لَا تُوطَأَ حَامِلٌ حَتَّى تَضَعَ، وَلَا حَائِلٌ حَتَّى تَحِيضَ، وَلَمْ يَسْأَلْ عَنْ ذَاتِ زَوْجٍ وَلَا غَيْرِهَا، وَلَا هَلْ سُبِيَ زَوْجٌ مَعَ امْرَأَتِهِ وَلَا غَيْرُهُ.امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے اوطاس کے قیدیوں اور بنو المصطلق کے قیدیوں کو گرفتار کیا، اور ان دونوں قبیلوں کے مردوں کو بھی قیدی بنایا، اور قیدیوں کو تقسیم فرمایا، پھر آپ ﷺ نے حکم دیا کہ کسی حاملہ (لونڈی) سے وضع حمل تک اور غیر حاملہ سے ایک حیض آنے تک ہمبستری نہ کی جائے، اور آپ ﷺ نے یہ نہیں پوچھا کہ کون شوہر والی ہے اور کون نہیں، اور نہ یہ پوچھا کہ کیا کسی کا شوہر بھی اس کی بیوی کے ساتھ قید ہوا ہے یا نہیں۔“
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، أنبأ شَرِيكٌ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ وَالْمُجَالِدِ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَصَبْنَا سَبَايَا يَوْمَ ⦗٢٠٩⦘ أَوْطَاسٍ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُوطَأُ حَامِلٌ حَتَّى تَضَعَ حَمْلَهَا وَلَا غَيْرُ حَامِلٍ حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً ".سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اوطاس کے دن ہمیں لونڈیاں ملیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حاملہ کے ساتھ وضع حمل سے پہلے ہمبستری نہ کی جائے اور غیر حاملہ سے ایک حیض آنے تک۔“