السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: المرأة تدرك من أول الوقت مقدار الصلاة ثم حاضت أو أغمي عليها باب: اس عورت کا بیان جو اول وقت میں نماز ادا کرنے کی مقدار کے برابر وقت پا لے پھر اسے حیض آ جائے یا وہ بے ہوش ہو جائے
حدیث نمبر: 1824
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ثنا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ثنا شُعْبَةُ عَنْ عُقْبَةَ وَهُوَ ابْنُ أَبِي ثُبَيْتٍ الرَّاسِبِيُّ وَهُوَ ثِقَةٌ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ نَهَى النِّسَاءَ أَنْ يَبِتْنَ عَنِ الْعِشَاءِ مَخَافَةَ أَنْ يَحِضْنَ يُرِيدُ صَلَاةَ الْعِشَاءِ ".حافظ ثناء اللہ
ابو جوزاء سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عورتوں کو منع کیا کہ عشاء کی نماز چھوڑ بیٹھیں اس ڈر سے کہ وہ حائضہ ہوجائیں گی۔ وہ عشاء کی نماز مراد لے رہے تھے۔