السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: المرأة تدرك من أول الوقت مقدار الصلاة ثم حاضت أو أغمي عليها باب: اس عورت کا بیان جو اول وقت میں نماز ادا کرنے کی مقدار کے برابر وقت پا لے پھر اسے حیض آ جائے یا وہ بے ہوش ہو جائے
حدیث نمبر: 1823
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ فَإِنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِسُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَاجْتَنِبُوهُ وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِالْأَمْرِ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ " ⦗٥٧٢⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.حافظ ثناء اللہ
محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھ کو چھوڑے رکھو جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں، تم میں سے پہلے لوگ اپنے نبیوں سے سوال اور اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہو گئے اور جب میں تمہیں کسی چیز سے منع کر دوں تو اس سے بچو اور جب کسی کام کا حکم دوں تو وہ کرو جتنی تم طاقت رکھتے ہو۔“