حدیث نمبر: 18210
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَوْذَبٍ، حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصَابَ غَنِيمَةً أَمَرَ بِلَالًا فَنَادَى فِي النَّاسِ، فَيَجِيئُونَ بِغَنَائِمِهِمْ فَيَخْمُسُهَا وَيَقْسِمُهَا، فَجَاءَ رَجُلٌ بَعْدَ ذَلِكَ بِزِمَامٍ مِنْ شَعْرٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا فِيمَا كُنَّا أَصَبْنَاهُ مِنَ الْغَنِيمَةِ قَالَ: " أَسَمِعْتَ بِلَالًا نَادَى ثَلَاثًا؟ " قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَجِيءَ بِهِ؟ " قَالَ: فَاعْتَذَرَ قَالَ: " كُنْ أَنْتَ تَجِيءُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَلَنْ أَقْبَلَهُ مِنْكَ " وَقَدْ مَضَى فِي الْبَابِ قَبْلَهُ حَدِيثُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو فِي كِرْكِرَةَ، وَلَمْ يُذْكَرْ فِي شَيْءٍ مِنْ هَذِهِ الرِّوَايَاتِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِتَحْرِيقِ مَتَاعِ الْغَالِّ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب مالِ غنیمت حاصل ہوتا تو رسول اللہ ﷺ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم فرماتے کہ: ”لوگوں میں اعلان کرو کہ غنیمت کا مال لے آؤ۔“ آپ ﷺ پانچواں حصہ نکال کر باقی تقسیم فرما دیتے۔ اس کے بعد ایک شخص بالوں کی ایک لٹ لے کر آیا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ مالِ غنیمت میں سے ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو نے بلال کا تین مرتبہ اعلان سنا تھا؟“ اس نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”پھر تو اسے لے کر کیوں نہ آیا؟“ اس نے عذر پیش کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے لے جاؤ، کل قیامت کے دن اسے لے کر آنا، میں تجھ سے اسے ہرگز قبول نہیں کروں گا۔“
(ب) سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی حدیث کرکرہ کے بارے میں گزر چکی ہے۔ آپ ﷺ نے کسی جگہ بھی مالِ غنیمت میں خیانت کرنے والے کا سامان نہیں جلایا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18210
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ تقدم برقم ٦/١٢٧١٩»