حدیث نمبر: 18209
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، سَمِعَ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، وَابْنُ عَجْلَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَفَلَ مِنْ غَزْوَةِ حُنَيْنٍ رَهِقَهُ النَّاسُ يَسْأَلُونَهُ، فَحَاصَتْ بِهِ النَّاقَةُ، فَخَطِفَتْ رِدَاءَهُ شَجَرَةٌ، فَقَالَ: " رُدُّوا عَلَيَّ رِدَائِي، أَتَخْشَوْنَ عَلَيَّ الْبُخْلَ؟ وَاللهِ لَوْ أَفَاءَ اللهُ عَلَيْكُمْ نَعَمًا مِثْلَ سَمُرِ تِهَامَةَ لَقَسَمْتُهَا بَيْنَكُمْ، ثُمَّ لَا تَجِدُونَنِي بَخِيلًا وَلَا جَبَانًا وَلَا كَذَّابًا ". ثُمَّ أَخَذَ وَبَرَةً مِنْ وَبَرِ سَنَامِ الْبَعِيرِ فَرَفَعَهَا وَقَالَ: " مَا لِي مِمَّا أَفَاءَ اللهُ عَلَيْكُمْ وَلَا مِثْلُ هَذِهِ إِلَّا الْخُمُسُ، وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ ". فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ قَسْمِ الْخُمُسِ أَتَاهُ رَجُلٌ يَسْتَحِلُّهُ خِيَاطًا أَوْ مِخْيَطًا فَقَالَ: " رُدُّوا الْخِيَاطَ وَالْمِخْيَطَ، فَإِنَّ الْغُلُولَ عَارٌ وَنَارٌ وَشَنَارٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "..
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ جب غزوہ حنین سے واپس آئے تو لوگوں نے آپ کو گھیر لیا اور مال مانگ رہے تھے، جس کی وجہ سے اونٹنی بدکی اور آپ کی چادر مبارک درخت پر اٹک گئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری چادر واپس کرو، کیا تمہیں مجھ سے بخل کا خطرہ ہے؟ اگر اللہ مجھے تہامہ کے درختوں جتنے جانور عطا کر دے تو میں سارے کے سارے تمہارے درمیان تقسیم کر دوں، پھر تم مجھے بخیل، بزدل اور جھوٹا نہ پاؤ گے۔“ پھر آپ ﷺ نے اونٹ کی کوہان کے بال پکڑ کر بلند فرمائے اور فرمایا: ”اللہ کے عطا کردہ مال سے میرا حصہ اتنا بھی نہیں سوائے پانچویں حصے کے اور خمس بھی تمہیں واپس کر دیا جاتا ہے۔“ خمس کی تقسیم کے وقت ایک شخص آیا، جو اپنے لیے اس مال سے سوئی یا دھاگا بھی حلال خیال کرتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”دھاگا اور سوئی واپس کر دو، کیونکہ مالِ غنیمت میں خیانت قیامت کے دن عیب و رسوائی ہوگی۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18209