السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: المغمى عليه يفيق بعد ذهاب الوقتين فلا يكون عليه قضاؤهما باب: بے ہوش شخص کا دو نمازوں کا وقت گزر جانے کے بعد ہوش میں آنے اور ان دونوں کی قضا اس پر لازم نہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1820
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّغُولِيُّ ثنا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ ثنا مُغِيثُ بْنُ بُدَيْلٍ ثنا خَارِجَةُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَطَاءٍ هُوَ ابْنُ يَسَارٍ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَيْلِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنِ الرَّجُلِ يُغْمَى عَلَيْهِ فَيَتْرُكُ الصَّلَاةَ الْيَوْمَ وَالْيَوْمَيْنِ وَأَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَقَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ بِشَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ قَضَاءٌ إِلَّا أَنْ يُغْمَى عَلَيْهِ فِي صَلَاتِهِ فَيُفِيقُ وَهُوَ فِي وَقْتِهَا فَيُصَلِّيهَا ".حافظ ثناء اللہ
قاسم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس شخص کے متعلق سوال کیا جس پر بے ہوشی طاری ہو جاتی ہے اور وہ ایک یا دو دن یا اس سے زیادہ دن کی نمازیں چھوڑتا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس پر قضا نہیں ہے مگر وہ نماز جس میں اس کو افاقہ ہو جائے تو وہ نماز پڑھے گا۔“