السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: المغمى عليه يفيق بعد ذهاب الوقتين فلا يكون عليه قضاؤهما باب: بے ہوش شخص کا دو نمازوں کا وقت گزر جانے کے بعد ہوش میں آنے اور ان دونوں کی قضا اس پر لازم نہ ہونے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْبَغْدَادِيُّ الرَّفَّاءُ أنا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، أَنَّ أَبَاهُ، قَالَ: " كَانَ مَنْ أَدْرَكْتُ مِنْ فُقَهَائِنَا الَّذِينَ يُنْتَهَى إِلَى قَوْلِهِمْ يَعْنِي مِنْ تَابِعِي أَهْلِ الْمَدِينَةِ يَقُولُونَ فَذَكَرَ أَحْكَامًا وَفِيهَا: الْمُغْمَى عَلَيْهِ لَا يَقْضِي الصَّلَاةَ إِلَّا أَنْ يُفِيقَ وَهُوَ فِي وَقْتِ صَلَاةٍ فَلْيُصَلِّهَا وَهُوَ يَقْضِي الصَّوْمَ، وَالَّذِي يُغْمَى عَلَيْهِ فَيُفِيقُ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ يُصَلِّي الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ، وَإِنْ أَفَاقَ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ صَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ قَالُوا: وَكَذَلِكَ تَفْعَلُ الْحَائِضُ إِذَا طَهُرَتْ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ أَوْ طُلُوعِ الْفَجْرِ " ⦗٥٧١⦘ وَرُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ مُسْنَدٌ فِي إِسْنَادِهِ ضَعْفٌ وَاللهُ أَعْلَمُ.عبدالرحمن بن ابی زناد کے والد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے اپنے (علاقے کے) فقہاء کو پایا ہے جو اہل مدینہ کے تابعین کے قول کی اتباع کرتے تھے، فرماتے تھے کہ انہوں نے کچھ احکام ذکر کیے، ان میں (یہ بھی تھا کہ) بے ہوش شخص پر نماز واجب نہیں ہے، مگر جب افاقہ ہو جائے اور وہ نماز کے وقت میں ہو تو وہ پڑھے گا اور وہ روزہ قضا کرے گا اور بے ہوش آدمی کو اگر سورج غروب ہونے سے پہلے افاقہ ہو جائے تو وہ ظہر اور عصر کی نماز پڑھے گا اور اگر اس کو سورج طلوع ہونے سے پہلے افاقہ ہوا تو مغرب اور عشاء کی نماز پڑھے۔ انہوں نے فرمایا: حائضہ بھی اسی طرح کرے گی جب وہ سورج غروب ہونے سے پہلے یا فجر طلوع ہونے سے پہلے پاک ہو جائے۔