السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: نزول أهل الحصن أو بعضهم على حكم الإمام أو غير الإمام إذا كان المنزول على حكمه مأمونا باب: اہلِ قلعہ یا ان میں سے بعض کا امام یا غیر امام کے فیصلے پر قلعے سے نیچے اترنا، بشرطیکہ جس کے فیصلے پر اترا جائے وہ قابلِ اعتماد ہو۔
حدیث نمبر: 18186
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا سُفْيَانُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ أَمِيرًا عَلَى جَيْشٍ أَوْصَاهُ بِتَقْوَى اللهِ فِي خَاصَّةِ نَفْسِهِ وَبِمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: وَإِذَا حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ فَأَرَادُوكَ أَنْ تُنْزِلَهُمْ عَلَى حُكْمِ اللهِ فَلَا تُنْزِلْهُمْ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَتُصِيبُ حُكْمَ اللهِ أَمْ لَا. " زَادَ فِيهِ وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ وَلَكِنْ أَنْزِلُوهُمْ عَلَى حُكْمِكُمْ، ثُمَّ اقْضُوا فِيهِمْ بَعْدُ مَا شِئْتُمْ ".حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن بریدہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی کو لشکر کا امیر بناتے تو اسے خاص طور پر اللہ کے تقویٰ کی اور مومنوں کے ساتھ بھلائی کی نصیحت فرماتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب آپ کسی قلعہ والوں کا محاصرہ کریں، اگر وہ چاہیں کہ آپ ان کو اللہ کے حکم پر اتاریں تو آپ ایسا نہ کریں۔ آپ نہیں جانتے کہ آپ اللہ کے حکم کو پا سکیں گے یا نہیں۔“ (ب) وکیع سفیان سے نقل فرماتے ہیں: ”لیکن انھیں اپنے حکم پر اتارو، پھر ان کے بارے میں جو چاہو فیصلہ کرو۔“