حدیث نمبر: 18185
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: أُصِيبَ سَعْدٌ يَوْمَ الْخَنْدَقِ، رَمَاهُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ حَبَّانُ بْنُ الْعَرِقَةِ، رَمَاهُ فِي الْأَكْحَلِ فَضَرَبَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْمَةً فِي الْمَسْجِدِ لِيَعُودَهُ مِنْ قَرِيبٍ، فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْخَنْدَقِ وَوَضَعَ السِّلَاحَ وَاغْتَسَلَ، أَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَهُوَ يَنْفُضُ رَأْسَهُ مِنَ الْغُبَارِ، فَقَالَ: قَدْ وَضَعْتَ السِّلَاحَ؟ وَاللهِ مَا وَضَعْنَاهَا اخْرُجْ إِلَيْهِمْ. قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَأَيْنَ؟ ". قَالَ: هَهُنَا، وَأَشَارَ ⦗١٦٥⦘ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ، فَنَزَلُوا عَلَى حُكْمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَدَّ الْحُكْمَ فِيهِمْ إِلَى سَعْدٍ، قَالَ: فَإِنِّي أَحْكُمُ فِيهِمْ أَنْ تُقْتَلَ الْمُقَاتِلَةُ، وَتُسْبَى الذُّرِّيَّةُ، وَتُقْسَمَ أَمْوَالُهُمْ. قَالَ أَبِي: فَأُخْبِرْتُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بِحُكْمِ اللهِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ يَحْيَى، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ نُمَيْرٍ.
حافظ ثناء اللہ

ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ خندق کے دن حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو زخم لگا، جو حبان بن عرقہ قریشی نے لگایا تھا۔ اس نے رگِ حیات پر تیر مارا تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے لیے مسجد میں خیمہ لگوایا تاکہ قریب سے ان کی تیمار داری کرسکیں۔ جب رسول اللہ ﷺ غزوہ خندق سے واپس آئے، اپنے ہتھیار اتار دیے اور غسل کرلیا، اس وقت جبرائیل علیہ السلام اپنے سر سے غبار کو جھاڑتے ہوئے آئے۔ انہوں نے کہا: آپ ﷺ نے اسلحہ اتار دیا، اللہ کی قسم! ہم نے اسلحہ نہیں اتارا، آپ ان کی جانب نکلیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کہاں؟“ جبرائیل علیہ السلام نے وہاں بنو قریظہ کی جانب اشارہ کیا۔ رسول اللہ ﷺ ان کی جانب گئے تو وہ رسول اللہ ﷺ کے حکم پر اتر پڑے، پھر آپ ﷺ نے فیصلہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی جانب منتقل کر دیا۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ان کے بارے میں میرا فیصلہ یہ ہے کہ لڑائی کرنے والوں کو قتل کیا جائے، بچوں کو قیدی بنایا جائے اور ان کے مالوں کو تقسیم کیا جائے۔ میرے والد کہتے ہیں کہ مجھے بتایا گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے ان کے بارے میں اللہ کے حکم کے موافق فیصلہ دیا۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18185
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»