حدیث نمبر: 18183
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ الثَّقَفِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: حَاصَرْنَا تُسْتَرَ فَنَزَلَ الْهُرْمُزَانُ عَلَى حُكْمِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَدِمْتُ بِهِ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَيْهِ، قَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " تَكَلَّمْ "، قَالَ: كَلَامُ حَيٍّ، أَوْ كَلَامُ مَيِّتٍ؟ قَالَ: " تَكَلَّمْ لَا بَأْسَ ". قَالَ: إِنَّا وَإِيَّاكُمْ مَعَاشِرَ الْعَرَبِ مَا خَلَّى اللهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ، كُنَّا نَتَعَبَّدُكُمْ وَنَقْتُلُكُمْ وَنَغْصِبُكُمْ، فَلَمَّا كَانَ اللهُ مَعَكُمْ لَمْ يَكُنْ لَنَا يَدَانِ. فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " مَا تَقُولُ؟ ". فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، تَرَكْتُ بَعْدِي عَدُوًّا كَثِيرًا وَشَوْكَةً شَدِيدَةً، فَإِنْ قَتَلْتَهُ يَأْيَسِ الْقَوْمُ مِنَ الْحَيَاةِ وَيَكُونُ أَشَدَّ لِشَوْكَتِهِمْ. فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَسْتَحْيِي قَاتِلَ الْبَرَاءِ بْنِ مَالِكٍ وَمَجْزَأَةَ بْنِ ثَوْرٍ؟ فَلَمَّا خَشِيتُ أَنْ يَقْتُلَهُ قُلْتُ: لَيْسَ إِلَى قَتْلِهِ سَبِيلٌ، قَدْ قُلْتَ لَهُ: تَكَلَّمْ لَا بَأْسَ. فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " ارْتَشَيْتَ وَأَصَبْتَ مِنْهُ ". فَقَالَ: وَاللهِ مَا ارْتَشَيْتُ وَلَا أَصَبْتُ مِنْهُ. قَالَ: " لَتَأْتِيَنِّي عَلَى مَا شَهِدْتَ بِهِ بِغَيْرِكَ أَوْ لَأَبْدَأَنَّ بِعُقُوبَتِكَ ". قَالَ: فَخَرَجْتُ، فَلَقِيتُ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَشَهِدَ مَعِي، وَأَمْسَكَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَأَسْلَمَ، يَعْنِي الْهُرْمُزَانَ وَفَرَضَ لَهُ.
حافظ ثناء اللہ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نے تستر کا محاصرہ کیا، ہرمزان حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حکم پر نیچے اترا، میں اسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لے کر چلا، جب ہم آپ کے پاس پہنچے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بات کرو، اس نے پوچھا: زندہ والی بات کروں یا مردہ والی؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بات کرو، کوئی حرج نہیں، اس نے کہا: ہم اور آپ عرب کے قبائلی ہیں، ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ نے کوئی علیحدگی نہیں رکھی تھی، ہم تم پر غالب تھے، تمہیں قتل کرتے تھے اور تمہارا مال غصب کرتے تھے، پھر جب اللہ تمہارے ساتھ ہو لیا تو ہمارے دونوں ہاتھ نہ رہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا کہہ رہے ہو؟ میں نے کہا: اے امیر المومنین! میں نے اپنے پیچھے بہت زیادہ دشمن اور سخت شورش چھوڑی ہے، اگر آپ اسے قتل کر دیں گے تو لوگ زندگی سے مایوس ہو جائیں گے اور ان کی شورش میں اضافہ ہو جائے گا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے براء بن مالک اور مجزہ بن ثور رضی اللہ عنہما کے قتل سے حیاء آتی ہے، جب میں نے خوف محسوس کیا کہ وہ اسے قتل ہی کریں گے تو میں نے کہا: آپ کے لیے اسے قتل کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے، آپ اسے کہہ چکے ہیں: بات کرو، کوئی حرج نہیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو نے رشوت لی ہے اور تو درستگی کو پہنچا، میں نے کہا: قسم بخدا! نہ تو میں نے رشوت لی ہے اور نہ ہی کسی بھلائی کو پہنچا ہوں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا تو میرے پاس اس بات پر کوئی گواہ لاؤ ورنہ میں تجھے ضرور سزا دے کر رہوں گا، کہتے ہیں: میں نکلا اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے ملا، انہوں نے میرے ساتھ گواہی دی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ رک گئے اور ہرمزان مسلمان ہو گیا اور ان کے لیے مقرر کیا گیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18183