حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ لَفْظًا، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قِرَاءَةً عَلَيْهِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ الرَّقِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، ثنا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، وَزِيَادُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ، قَالَ: بَعَثَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ النَّاسَ مِنْ أَفْنَاءِ الْأَمْصَارِ يُقَاتِلُونَ الْمُشْرِكِينَ، قَالَ: فَبَيْنَمَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَذَلِكَ، إِذْ أُتِيَ بِرَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ أَهْلِ الْأَهْوَازِ قَدْ أُسِرَ، فَلَمَّا أُتِيَ بِهِ قَالَ بَعْضُ النَّاسِ لِلْهُرْمُزَانِ: أَيَسُرُّكَ أَنْ لَا تُقْتَلَ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَمَا هُوَ؟ قَالَ: إِذَا قَرَّبُوكَ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ فَكَلَّمَكَ فَقُلْ: إِنِّي أَفْرَقُ أَنْ أُكَلِّمَكَ، فَيَقُولُ: لَا تَفْرَقْ، فَإِنْ أَرَادَ قَتْلَكَ فَقُلْ: إِنِّي فِي أَمَانٍ، إِنَّكَ قُلْتَ لَا تَفْرَقْ. قَالَ: فَحَفِظَهَا الرَّجُلُ، فَلَمَّا أُتِيَ بِهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ لَهُ فِي بَعْضِ مَا يُسَائِلُهُ عَنْهُ: " إِنِّي أَفْرَقُ ". يَعْنِي، فَقَالَ: لَا تَفْرَقْ. قَالَ: " فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ كَلَامِهِ سَاءَلَهُ عَمَّا شَاءَ اللهُ "، ثُمَّ قَالَ لَهُ: " إِنِّي قَاتِلُكَ "، قَالَ: فَقَالَ: فَقَدْ أَمَّنْتَنِي. فَقَالَ: " وَيْحَكَ مَا أَمَّنْتُكَ ". قَالَ: قُلْتَ: لَا تَفْرَقْ. قَالَ: " صَدَقَ إِمَّا لَا فَأَسْلِمْ ". قَالَ: نَعَمْ. فَأَسْلَمَ. ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ.جبیر بن حیہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو مختلف شہروں میں مشرکین سے جہاد کے لیے بھیجا۔ راوی کہتے ہیں کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اہل اہواز میں سے کسی مشرک آدمی کو قیدی بنا کر بلایا جاتا تو بعض لوگوں نے ہرمزان سے کہا: کیا آپ کو یہ بات اچھی لگتی ہے کہ آپ قتل نہ کیے جائیں؟ اس نے کہا: وہ کیسے؟ انھوں نے کہا: جب وہ تجھے امیر المؤمنین کے قریب کریں اور وہ تم سے بات کریں تو تم کہنا: میں آپ سے بات کرنے سے ڈرتا ہوں، تو وہ کہیں گے: «لَا تَفْرَقْ» ”ڈرو نہیں“، پھر اگر وہ تجھے قتل کرنا چاہیں تو کہہ دینا: میں امان میں ہوں، آپ نے «لَا تَفْرَقْ» کہا تھا۔ اس شخص نے یہ بات یاد کر لی۔ پھر جب اسے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا تو اس نے سوالات کے دوران کہا: میں ڈرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: «لَا تَفْرَقْ» ”پریشان نہ ہو“۔ پھر جب آپ اس سے گفتگو کر کے فارغ ہوئے تو اس سے جو اللہ نے چاہا پوچھا، پھر فرمایا: میں تجھے قتل کرنے والا ہوں۔ اس نے کہا: آپ نے مجھے امان دی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تیرا ناس ہو! میں نے تجھے امان نہیں دی۔ اس نے کہا: آپ نے «لَا تَفْرَقْ» کہا ہے۔ فرمایا: اس نے سچ کہا، اگر ایسا نہیں تو اسلام قبول کر لے۔ اس نے کہا: ہاں۔ اور اس نے اسلام قبول کر لیا، آگے طویل حدیث ہے۔