أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: جَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " وَإِذَا حَاصَرْتُمْ قَصْرًا فَأَرَادُوكُمْ أَنْ يَنْزِلُوا عَلَى حُكْمِ اللهِ فَلَا تُنْزِلُوهُمْ، فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ مَا حُكْمُ اللهِ فِيهِمْ وَلَكِنْ أَنْزِلُوهُمْ عَلَى حُكْمِكُمْ، ثُمَّ اقْضُوا فِيهِمْ مَا أَحْبَبْتُمْ، وَإِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: لَا تَخَفْ فَقَدْ أَمَّنَهُ، وَإِذَا قَالَ: مِتْرَسٌ فَقَدْ أَمَّنَهُ، وَإِذَا قَالَ لَهُ: أَظُنُّهُ لَا تَدْهَلْ فَقَدْ أَمَّنَهُ، فَإِنَّ اللهَ يَعْلَمُ الْأَلْسِنَةَ ". وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، فَقَالَ فِي آخِرِهِ: " وَإِنْ قَالَ لَا تَذْهَلْ فَقَدْ أَمَّنَهُ، فَإِنَّ اللهَ يَعْلَمُ الْأَلْسِنَةَ "..ابو وائل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا خط آیا کہ جب تم کسی قلعہ کا محاصرہ کرو اور ان کا ارادہ ہو کہ تم انہیں اللہ کے حکم پر اتارو تو ایسا نہ کرنا؛ کیونکہ تم نہیں جانتے ان کے بارے میں اللہ کا کیا حکم ہے بلکہ اپنے حکم پر اتارو، پھر اپنی مرضی کا ان کے بارے میں فیصلہ کرو اور جب کوئی شخص کسی آدمی سے کہے: تو ڈر نہیں، اس نے تجھے امن دے دیا ہے اور جب اس نے لفظ «مَتْرَسْ» (متوسی) کہا تو اس نے امن دے دیا اور جب اس نے «لَا تَدْخُلْ» ”تم داخل نہ ہو“ کے الفاظ کہہ دیے تب بھی پناہ دے دی، اللہ تعالیٰ زبانوں کو جانتے ہیں۔
ثوری رحمہ اللہ اعمش رحمہ اللہ سے فرماتے ہیں، جس کے آخر میں ہے کہ «لَا تَدْخُلْ» ”تم داخل نہ ہو“ کے الفاظ کے ساتھ بھی پناہ دی جاتی ہے کیونکہ اللہ رب العزت زبانوں کو جانتے ہیں۔