السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: قتل من لا قتال فيه من الكفار جائز وإن كان الاشتغال بغيره أولى باب: کفار میں سے جو جنگ نہ کرے اسے قتل کرنا بھی جائز ہے، اگرچہ اس کے علاوہ (جنگجوؤں کے خلاف) مشغول ہونا زیادہ بہتر ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ " كَانَ مَعَ أَبِيهِ يَوْمَ الْيَرْمُوكِ، فَلَمَّا انْهَزَمَ الْمُشْرِكُونَ وَحَمَلَ، فَجَعَلَ يُجِيزُ عَلَى جَرْحَاهُمْ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " وَلَا أَعْلَمُ يَثْبُتُ عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خِلَافُ هَذَا، وَلَوْ كَانَ ثَبَتَ لَكَانَ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ أَمَرَهُمْ بِالْجِدِّ عَلَى قِتَالِ مَنْ يُقَاتِلُهُمْ، وَلَا يَتَشَاغَلُوا بِالْمُقَامِ عَلَى مَوْضِعِ هَؤُلَاءِ ". قَالَ الشَّيْخُ: " وَإِنَّمَا قَالَ هَذَا لِأَنَّ الرِّوَايَاتِ الَّتِي ذَكَرْنَاهَا عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كُلَّهَا مَرَاسِيلُ، إِلَّا أَنَّهَا رُوِيَتْ مِنْ أَوْجُهٍ وَرَوَاهَا ابْنُ الْمُسَيِّبِ، وَهُوَ حَسَنُ الْمُرْسَلِ، ⦗١٥٩⦘ وَذَكَرَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي رِوَايَةِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَغْدَادِيِّ عَنْهُ حَدِيثَ الْمُرَقَّعِ، ثُمَّ ضَعَّفَهُ بِأَنَّ مُرَقَّعًا لَيْسَ بِالْمَعْرُوفِ، وَذَكَرَ حَدِيثَ أَيُّوبَ عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِيهِ، ثُمَّ قَالَ: وَهَذَا كَالَّذِي ذَكَرْنَا مِنْ قَبْلِهِ مَجْهُولٌ، وَأَمَّا حَدِيثُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ فَلَمْ يَذْكُرْهُ الشَّافِعِيُّ وَهُوَ أَضْعَفُ مِمَّا رَدَّهُ بِالْجَهَالَةِ، وَاللهُ أَعْلَمُ ".حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں غزوہ یرموک میں اپنے باپ کے ساتھ تھا۔ جب مشرکین کو شکست ہوئی تو انہوں نے حملہ کیا اور ان کے زخمیوں کا کام تمام کرنے لگے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے اس کے خلاف کوئی بات ثابت معلوم نہیں۔ اگر ان سے ثابت ہو تو غالباً اس کا مطلب یہ ہوگا کہ انہوں نے لشکر کو حکم دیا کہ وہ لڑنے والوں سے پوری کوشش کے ساتھ لڑائی کریں اور ان (راہبوں) کی جگہوں پر ٹھہرنے میں مشغول نہ ہوں۔
شیخ فرماتے ہیں: امام شافعی نے یہ بات اس لیے کہی کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے جو روایات ہم نے ذکر کی ہیں وہ سب مرسل ہیں، البتہ وہ کئی سندوں سے مروی ہیں اور انہیں ابن مسیب نے روایت کیا ہے جن کی مرسل روایت عمدہ ہوتی ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے ابو عبدالرحمن بغدادی کی روایت میں مرقع کی حدیث ذکر کی، پھر اسے اس بنا پر ضعیف قرار دیا کہ مرقع معروف نہیں۔ اور ایوب کی وہ حدیث ذکر کی جو وہ ایک شخص سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتا ہے، پھر فرمایا: یہ بھی پہلی کی طرح مجہول ہے۔ رہی ابراہیم بن اسماعیل بن ابی حبیبہ کی حدیث تو امام شافعی نے اسے ذکر نہیں کیا، اور وہ اس روایت سے بھی زیادہ ضعیف ہے جسے انہوں نے جہالت کی بنا پر رد کیا۔ واللہ اعلم۔