السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: قتل من لا قتال فيه من الكفار جائز وإن كان الاشتغال بغيره أولى باب: کفار میں سے جو جنگ نہ کرے اسے قتل کرنا بھی جائز ہے، اگرچہ اس کے علاوہ (جنگجوؤں کے خلاف) مشغول ہونا زیادہ بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 18166
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو وَكِيعٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ انْتَهَيْتُ إِلَى أَبِي جَهْلٍ وَهُوَ مَصْرُوعٌ، فَضَرَبْتُهُ بِسَيْفِي، فَمَا صَنَعَ شَيْئًا وَنَدَرَ سَيْفُهُ، فَضَرَبْتُهُ، ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ حَارٍّ كَأَنَّمَا أَقَلَّ مِنَ الْأَرْضِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا عَدُوُّ اللهِ أَبُو جَهْلٍ قَدْ قُتِلَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " آللَّهِ لَقَدْ قُتِلَ؟ ". قُلْتُ: آللَّهِ لَقَدْ قُتِلَ. قَالَ: فَانْطَلِقْ بِنَا فَأَرِنَاهُ. فَجَاءَ فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ: " هَذَا كَانَ فِرْعَوْنَ هَذِهِ الْأُمَّةِ ". كَذَا قَالَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، وَالْمَحْفُوظُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَقَدْ مَضَى ذَلِكَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بدر کے دن میں ابو جہل تک پہنچا، وہ گرا ہوا تھا، میں نے اسے اپنی تلوار ماری، اس نے کچھ بھی نہ کیا، اس کی تلوار گر گئی، میں نے اسے مارا، پھر میں نبی ﷺ کے پاس خوشخبری لے کر آیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ اللہ کا دشمن ابو جہل قتل کر دیا گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”«آللّٰهِ؟» ”اللہ کی قسم! کیا وہ قتل کر دیا گیا؟“” میں نے کہا: ہاں، اللہ کی قسم وہ قتل کر دیا گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”چلو ہمیں دکھاؤ“، آپ ﷺ نے آ کر دیکھا اور فرمایا: ”یہ اس امت کا فرعون تھا“۔