السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: قتل من لا قتال فيه من الكفار جائز وإن كان الاشتغال بغيره أولى باب: کفار میں سے جو جنگ نہ کرے اسے قتل کرنا بھی جائز ہے، اگرچہ اس کے علاوہ (جنگجوؤں کے خلاف) مشغول ہونا زیادہ بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 18163
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: " قُتِلَ يَوْمَ حُنَيْنٍ دُرَيْدُ بْنُ الصِّمَّةِ ابْنُ خَمْسِينَ وَمِائَةِ سَنَةٍ فِي شِجَارٍ لَا يَسْتَطِيعُ الْجُلُوسَ، فَذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُنْكِرْ قَتْلَهُ " قَالَ الشَّافِعِيُّ: " وَقُتِلَ أَعْمَى مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ بَعْدَ الْإِسَارِ، وَهَذَا يَدُلُّ عَلَى قَتْلِ مَنْ لَا يُقَاتِلُ مِنَ الرِّجَالِ الْبَالِغِينَ إِذَا أَبَى الْإِسْلَامَ وَالْجِزْيَةَ ". قَالَ الشَّيْخُ: هُوَ الزُّبَيْرُ بْنُ بَاطَا الْقُرَظِيُّ قَدْ ذَكَرْنَا قِصَّتَهُ فِيمَا مَضَى ".حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ درید بن صمہ ١٥٠ سال کی عمر میں اپنے باغ میں قتل کیا گیا۔ وہ بیٹھنے کی طاقت نہ رکھتا تھا۔ جب نبی ﷺ کے سامنے اس کے قتل کا تذکرہ ہوا تو آپ ﷺ نے اس کا انکار نہ کیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بنو قریظہ کا نابینا شخص قید کے بعد قتل کر دیا گیا۔ یہ دلالت ہے کہ بالغ آدمی جب اسلام و جزیہ سے بھاگ جائے تو قتل کرنا جائز ہے۔