السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: قتل من لا قتال فيه من الكفار جائز وإن كان الاشتغال بغيره أولى باب: کفار میں سے جو جنگ نہ کرے اسے قتل کرنا بھی جائز ہے، اگرچہ اس کے علاوہ (جنگجوؤں کے خلاف) مشغول ہونا زیادہ بہتر ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، فِي قِصَّةِ أَوْطَاسٍ، قَالَ: فَأَدْرَكَ رَبِيعَةُ بْنُ رُفَيْعٍ دُرَيْدَ بْنَ الصِّمَّةِ فَأَخَذَ بِخِطَامِ جَمَلِهِ وَهُوَ يَظُنُّ أَنَّهُ امْرَأَةٌ، وَذَلِكَ أَنَّهُ كَانَ فِي شِجَارٍ لَهُ، فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ، فَأَنَاخَ بِهِ فَإِذَا هُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ وَإِذَا هُوَ دُرَيْدٌ وَلَا يَعْرِفُهُ الْغُلَامُ، فَقَالَ دُرَيْدٌ: " مَاذَا تُرِيدُ؟ ". قَالَ: قَتْلَكَ. قَالَ: " وَمَنْ أَنْتَ؟ ". قَالَ رَبِيعَةُ بْنُ رُفَيْعٍ السُّلَمِيُّ، ثُمَّ ضَرَبَهُ بِسَيْفِهِ فَلَمْ يُغْنِ شَيْئًا، فَقَالَ دُرَيْدٌ: " بِئْسَ مَا سَلَّحَتْكَ أُمُّكَ، خُذْ سَيْفِي هَذَا مِنْ مُؤَخَّرِ الشِّجَارِ ثُمَّ اضْرِبْ بِهِ، وَارْفَعْ عَنِ الْعِظَامِ وَاخْفِضْ عَنِ الدِّمَاغِ، فَإِنِّي كَذَلِكَ كُنْتُ أَقْتُلُ الرِّجَالَ ". فَقَتَلَهُ.محمد بن اسحاق بن یسار رحمہ اللہ اوطاس کے قصے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ربیعہ بن رفیع رضی اللہ عنہ نے درید بن صمہ کو پا لیا اور اس کے اونٹ کی مہار پکڑ لی، اس نے سمجھا کہ یہ عورت ہے اور یہ درختوں میں تھا، جب اونٹ کو بٹھایا تو وہ بوڑھا درید تھا، غلام اسے جانتا نہیں تھا، درید نے کہا: تیرا کیا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا: تیرے قتل کا۔ درید نے پوچھا: تو کون ہے؟ انہوں نے کہا: میں ربیعہ بن رفیع سلمی ہوں۔ راوی کہتے ہیں: پھر انہوں نے تلوار ماری، لیکن درید کو قتل نہ کر سکے تو درید نے کہا: تیرے والد نے تجھے اچھے اسلحہ سے لیس نہیں کیا، جاؤ درختوں کے پیچھے سے میری تلوار لاؤ، ہڈی سے بچا کر دماغ پر مارو، میں بھی اس طرح افراد کو قتل کرتا تھا، تو اس طرح انہوں نے اسے قتل کر دیا۔