السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ترك قتل من لا قتال فيه من الرهبان والكبير وغيرهما باب: راہبوں، بوڑھوں اور ان جیسے دیگر افراد کو قتل نہ کرنے کا بیان جو جنگ میں حصہ نہیں لیتے۔
وَبِإِسْنَادِهِ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَقَالَ لِي: هَلْ " تَدْرِي لِمَ فَرَّقَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَأَمَرَ بِقَتْلِ الشَّمَامِسَةِ، وَنَهَى عَنْ قَتْلِ الرُّهْبَانِ؟ ". فَقُلْتُ: لَا أُرَاهُ إِلَّا لِحَبْسِ هَؤُلَاءِ أَنْفُسَهُمْ. فَقَالَ: أَجَلْ، وَلَكِنَّ الشَّمَامِسَةَ يَلْقَوْنَ الْقِتَالَ فَيُقَاتِلُونَ دُونَ الرُّهْبَانِ، وَإِنَّ الرُّهْبَانَ دَأْبُهُمْ أَنْ لَا يُقَاتِلُوا، وَقَدْ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ} [البقرة: ١٩٠] ".ابن اسحاق، محمد بن جعفر بن زبیر سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے مجھ سے کہا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیوں تفریق کروائی کہ خادمِ کنیسہ جو کنیسہ پرور ہو، اسے قتل کرنے کا حکم دیا جبکہ راہب کے قتل سے منع فرمایا؟ کہتے ہیں: میرے خیال کے مطابق صرف انہوں نے اپنے آپ کو روک رکھا ہے۔ انہوں نے کہا: ہاں! لیکن شماسمہ یہ لڑائی کی ابتدا کرواتے ہیں اور خود لڑائی کرتے ہیں اور راہب لوگوں کی رائے یہ ہوتی ہے کہ لڑائی نہ کی جائے اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ﴾ [سورة البقرة: 190] ”اور تم اللہ کے راستے میں ان لوگوں سے جہاد کرو جو تم سے لڑائی کرتے ہیں۔“