❮
❯
حدیث نمبر: 18150
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، قَالَ: لَمَّا بَعَثَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَزِيدَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ إِلَى الشَّامِ عَلَى رُبْعٍ مِنَ الْأَرْبَاعِ، خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَعَهُ يُوصِيهِ، وَيَزِيدُ رَاكِبٌ وَأَبُو بَكْرٍ يَمْشِي، فَقَالَ يَزِيدُ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِمَّا أَنْ تَرْكَبَ وَإِمَّا أَنْ أَنْزِلَ. فَقَالَ: " مَا أَنْتَ بِنَازِلٍ وَمَا أَنَا بِرَاكِبٍ، إِنِّي أَحْتَسِبُ خُطَايَ هَذِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ، يَا يَزِيدُ إِنَّكُمْ سَتَقْدَمُونَ بِلَادًا تُؤْتَوْنَ فِيهَا بِأَصْنَافٍ مِنَ الطَّعَامِ، فَسَمُّوا اللهَ عَلَى أَوَّلِهَا، وَاحْمَدُوهُ عَلَى آخِرِهَا، وَإِنَّكُمْ سَتَجِدُونَ أَقْوَامًا قَدْ حَبَسُوا أَنْفُسَهُمْ فِي هَذِهِ الصَّوَامِعِ فَاتْرُكُوهُمْ وَمَا حَبَسُوا لَهُ أَنْفُسَهُمْ، وَسَتَجِدُونَ أَقْوَامًا قَدِ اتَّخَذَ الشَّيْطَانُ عَلَى رُءُوسِهِمْ مَقَاعِدَ - يَعْنِي الشَّمَامِسَةَ - فَاضْرِبُوا تِلْكَ الْأَعْنَاقَ، وَلَا تَقْتُلُوا كَبِيرًا هَرِمًا، وَلَا امْرَأَةً، وَلَا وَلِيدًا، وَلَا تُخْرِبُوا عُمْرَانًا، وَلَا تَقْطَعُوا شَجَرَةً إِلَّا لِنَفْعٍ، وَلَا تَعْقِرُنَّ بَهِيمَةً إِلَّا لِنَفْعٍ، وَلَا تَحْرِقُنَّ نَخْلًا، وَلَا تُغَرِّقُنَّهُ، وَلَا تَغْدِرْ، وَلَا تُمَثِّلْ، وَلَا تَجْبُنْ، وَلَا تَغْلُلْ، {وَلِيَعْلَمَ اللهُ مَنْ يَنْصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ إِنَّ اللهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ} [الحديد: ٢٥]، أَسْتَوْدِعُكَ اللهَ وَأُقْرِئُكَ السَّلَامَ ". ثُمَّ انْصَرَفَ.
حافظ ثناء اللہ

صالح بن کیسان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کو چار گروہوں میں سے ایک کا امیر بنا کر شام کی جانب بھیجا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ وصیت کی غرض سے ان کے ساتھ پیدل چلے، جبکہ یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سوار تھے۔ یزید رضی اللہ عنہما نے کہا: اے خلیفہ رسول! یا تو آپ سوار ہو جائیں یا میں بھی نیچے اتر آتا ہوں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم اترو نہ میں سوار ہوتا ہوں، میں تو اللہ کے راستے میں پیدل چلنے کی نیت کیے ہوئے ہوں۔ اے یزید! تم ایسے شہروں میں آؤ گے جن میں مختلف قسم کے کھانے ہوں گے، ابتدا میں اللہ کا نام لو اور آخر میں اللہ کی تعریف کرو، حمد بیان کرو۔ اور عنقریب تم ایسے لوگ بھی پاؤ گے جنہوں نے اپنے آپ کو معبد خانوں میں روک رکھا ہوگا، ان کو اور جس کام کے لیے انہوں نے اپنے آپ کو روک رکھا ہے اسے چھوڑ دو۔ اور عنقریب تم ایسی قوم کو پاؤ گے کہ شیطان نے ان کے سروں پر اپنے بیٹھنے کی جگہیں بنا رکھی ہوں گی (یعنی شمامسہ: کنیسہ کے خادم)، ان کی گردنیں اڑا دو۔ کسی بوڑھے، عورت اور بچے کو قتل نہ کرنا، کسی آباد جگہ کو ویران نہ کرنا، درخت اور چوپائے کو فائدہ کے لیے کاٹنا، کھجور کے درختوں کو نہ جلانا اور نہ ڈبونا، دھوکا، مثلہ، بزدلی اور خیانت نہ کرنا۔ ﴿وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ مَن يَنْصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ ۚ إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ﴾ [سورة الحديد: 25] ”اور تاکہ اللہ جان لے کہ کون بن دیکھے اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے، بے شک اللہ قوت والا، غالب ہے۔“ میں تجھے «أَسْتَوْدِعُكَ اللَّهَ» ”اللہ کے سپرد کرتا ہوں“ اور میری طرف سے سلام۔ پھر وہ چلے گئے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18150
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»