السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: تحريم قتل ما له روح إلا بأن يذبح فيؤكل باب: کسی بھی جاندار کو قتل کرنے کی حرمت کا بیان، سوائے اس کے کہ اسے ذبح کر کے کھایا جائے۔
حدیث نمبر: 18132
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعَثَ يَزِيدَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ إِلَى الشَّامِ، فَمَشَى مَعَهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، إِلَى أَنْ قَالَ: " وَلَا تَذْبَحُوا بَعِيرًا وَلَا بَقَرًا إِلَّا لِمَأْكَلٍ ".حافظ ثناء اللہ
ابو عمران جونی فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو شام کی طرف بھیجا، انہوں نے حدیث ذکر کی جس کے آخر میں ہے کہ ”تم اونٹ اور گائے کو صرف کھانے کے لیے ذبح کرو۔“