السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: تحريم قتل ما له روح إلا بأن يذبح فيؤكل باب: کسی بھی جاندار کو قتل کرنے کی حرمت کا بیان، سوائے اس کے کہ اسے ذبح کر کے کھایا جائے۔
حدیث نمبر: 18131
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعَثَ جُيُوشًا إِلَى الشَّامِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي وَصِيَّتِهِ، إِلَى أَنْ قَالَ: " وَلَا تَعْقِرُنَّ شَاةً وَلَا بَعِيرًا إِلَّا لِمَأْكَلَةٍ ".حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے شام کی طرف لشکر بھیجے۔ ان کی وصیت کے بارے میں حدیث کو ذکر کیا، جس کے آخر میں ہے کہ ”بکری اور اونٹ کو صرف کھانے کے لیے ذبح کیا جائے۔“