❮
❯
حدیث نمبر: 18133
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَالَ أَبُو يُوسُفَ: حَدَّثَنَا بَعْضُ أَشْيَاخِنَا، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، أَنَّهُ قِيلَ لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّ الرُّومَ يَأْخُذُونَ مَا حُسِرَ مِنْ خَيْلِنَا فَيَسْتَعْجِلُونَهَا وَيُقَاتِلُونَ عَلَيْهَا أَفْنَعْقِرُ مَا حُسِرَ مِنْ خَيْلِنَا؟ فَقَالَ: لَا، لَيْسُوا بِأَهْلٍ أَنْ يَنْتَقِصُوا مِنْكُمْ، إِنَّمَا هُمْ غَدًا رَقِيقُكُمْ وَأَهْلُ ذِمَّتِكُمْ " " زَادَ أَبُو سَعِيدٍ فِي رِوَايَتِهِ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ "، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " وَقَدْ بَلَغَنَا عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَوْصَى ابْنَهُ: " لَا يَعْقِرُ جَسَدًا "، وَعَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَحِمَهُ اللهُ، أَنَّهُ " نَهَى عَنْ عَقْرِ الدَّابَّةِ إِذَا هِيَ قَامَتْ "، وَعَنْ قَبِيصَةَ " أَنَّ فَرَسَهُ قَامَ عَلَيْهِ بِأَرْضِ الرُّومِ فَتَرَكَهُ وَنَهَى عَنْ عَقْرِهِ "، أَخْبَرَنَا مَنْ سَمِعَ هِشَامَ بْنَ الْغَازِ، وَيَرْوِي عَنْ مَكْحُولٍ أَنَّهُ سَأَلَهُ عَنْهَا فَنَهَاهُ وَقَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْمُثْلَةِ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: ہمارے جو گھوڑے تھک کر رہ جاتے ہیں، رومی انہیں پکڑ لیتے ہیں اور جلدی سے کام میں لا کر ان پر لڑائی کرتے ہیں، کیا ہم اپنے تھکے ہوئے گھوڑوں کی کونچیں کاٹ دیا کریں؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، وہ اس لائق نہیں کہ تمہارا کچھ نقصان کر سکیں، کل وہ تمہارے غلام ہوں گے یا اہل ذمہ۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمیں سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو وصیت کی: ”کسی جاندار کی کونچیں نہ کاٹنا۔“ اور عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے کہ انہوں نے سواری کے تھک کر رک جانے پر اس کی کونچیں کاٹنے سے منع فرمایا۔ اور قبیصہ سے کہ روم کی سرزمین میں ان کا گھوڑا تھک کر رک گیا تو انہوں نے اسے چھوڑ دیا اور اس کی کونچیں کاٹنے سے منع کیا۔ اور ہمیں اس شخص نے خبر دی جس نے ہشام بن غاز سے سنا، وہ مکحول سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے منع کیا اور فرمایا: نبی ﷺ نے ”مثلہ سے منع فرمایا ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18133