السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: تحريم قتل ما له روح إلا بأن يذبح فيؤكل باب: کسی بھی جاندار کو قتل کرنے کی حرمت کا بیان، سوائے اس کے کہ اسے ذبح کر کے کھایا جائے۔
حدیث نمبر: 18128
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ صُهَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ⦗١٤٧⦘ مَنْ قَتَلَ عُصْفُورًا فَمَا فَوْقَهَا بِغَيْرِ حَقِّهَا سَأَلَهُ اللهُ عَنْ قَتْلِهِ ". قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا حَقُّهَا؟ قَالَ: " أَنْ تَذْبَحَهَا فَتَأْكُلَهَا، وَلَا تَقْطَعَ رَأْسَهَا فَتَرْمِيَ بِهَا ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " وَنَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَصْبُورَةِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص نے چڑیا یا اس سے بھی چھوٹے پرندے کو ناحق قتل کیا تو اللہ رب العزت اس کے قتل کے بارے میں سوال کریں گے۔“ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! اس کا حق کیا ہے؟ فرمایا: ”آپ ذبح کر کے اس کو کھائیں، اس کا سر کاٹ کر پھینک نہ دیں۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے باندھی ہوئی چڑیا کے کھانے سے منع فرمایا۔