السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من اختار الكف عن القطع والتحريق إذا كان الأغلب أنها ستصير دار إسلام أو دار عهد باب: اس شخص کا بیان جس نے درخت کاٹنے اور مکانات جلانے سے رکنے کو اس صورت میں اختیار کیا جب غالب گمان یہ ہو کہ وہ علاقہ دار الاسلام یا دار العہد (معاہدہ والا علاقہ) بن جائے گا۔
حدیث نمبر: 18127
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَعَلَّ أَمْرَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِأَنْ يَكُفُّوا عَنْ أَنْ يَقْطَعُوا شَجَرًا مُثْمِرًا؛ إِنَّمَا هُوَ لِأَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْبِرُ أَنَّ بِلَادَ الشَّامِ تُفْتَحُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ "، فَلَمَّا كَانَ مُبَاحًا لَهُ أَنْ يَقْطَعَ وَيَتْرُكَ اخْتَارَ التَّرْكَ نَظَرًا لِلْمُسْلِمِينَ، لَا لِأَنَّهُ رَآهُ مُحَرَّمًا؛ لِأَنَّهُ قَدْ حَضَرَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْرِيقَهُ بِالنَّضِيرِ، وَخَيْبَرَ، وَالطَّائِفِ ".حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پھل دار درختوں کو کاٹنے سے منع فرمایا، کیونکہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے سنا تھا کہ ”شام کے شہر مسلمان فتح کریں گے۔“ پھل دار درخت کو کاٹنا اور چھوڑ دینا دونوں طرح جائز ہے، تو انہوں نے مسلمانوں کی وجہ سے چھوڑ دینے کو اختیار کیا اس وجہ سے نہیں کہ وہ اس کو حرام خیال کرتے تھے؛ کیونکہ وہ نبی ﷺ کے ساتھ اس وقت موجود تھے جب بنو نضیر، خیبر اور طائف کے پھل دار درختوں کو جلایا گیا۔