السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: تحريم قتل ما له روح إلا بأن يذبح فيؤكل باب: کسی بھی جاندار کو قتل کرنے کی حرمت کا بیان، سوائے اس کے کہ اسے ذبح کر کے کھایا جائے۔
حدیث نمبر: 18129
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْحَكَمِ بْنِ أَيُّوبَ، فَرَأَى غِلْمَانًا أَوْ فِتْيَانًا قَدْ نَصَبُوا دَجَاجَةً يَرْمُونَهَا، فَقَالَ أَنَسٌ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصْبَرَ الْبَهَائِمُ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ.حافظ ثناء اللہ
ہشام بن زید کہتے ہیں: میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ حکم بن ایوب کے پاس آیا، انہوں نے بچوں یا نوجوانوں کو دیکھا کہ وہ ایک مرغی کو نصب کر کے نشانہ بازی کر رہے ہیں، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”چوپایوں کو باندھنے سے منع فرمایا ہے۔“