❮
❯
حدیث نمبر: 18126
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ مَا أَظُنُّ مِنْ هَذَا شَيْئًا، هَذَا كَلَامُ أَهْلِ الشَّامِ، أَنْكَرَهُ أَبِي عَلَى يُونُسَ مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، كَأَنَّهُ عِنْدَهُ مِنْ يُونُسَ، عَنْ غَيْرِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ

عبداللہ بن احمد بن حنبل کہتے ہیں: میں نے اپنے والد کو فرماتے ہوئے سنا: ”یہ حدیث منکر ہے، میرا خیال نہیں کہ اس میں سے کچھ بھی (ثابت) ہو، یہ اہل شام کا کلام ہے۔“ میرے والد نے یونس کی اس روایت کو زہری کی حدیث کے طور پر منکر قرار دیا، گویا ان کے نزدیک یونس نے اسے زہری کے علاوہ کسی اور سے لیا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18126