حدیث نمبر: 18125
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَمِيرَوَيْهِ الْكَرَابِيسِيُّ الْهَرَوِيُّ بِهَا، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَمَّا بَعَثَ الْجُنُودَ نَحْوَ الشَّامِ يَزِيدَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، وَعَمْرَو بْنَ الْعَاصِ، وَشُرَحْبِيلَ ابْنَ حَسَنَةَ، قَالَ: لَمَّا رَكِبُوا مَشَى أَبُو بَكْرٍ مَعَ أُمَرَاءِ جُنُودِهِ يُوَدِّعُهُمْ حَتَّى بَلَغَ ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ، فَقَالُوا: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللهِ، أَتَمْشِي وَنَحْنُ رُكْبَانٌ؟ فَقَالَ: " إِنِّي أَحْتَسِبُ خُطَايَ هَذِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ ". ثُمَّ جَعَلَ يُوصِيهِمْ، فَقَالَ: " أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللهِ، اغْزُوا فِي سَبِيلِ اللهِ فَقَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ بِاللهِ، فَإِنَّ اللهَ نَاصِرٌ دِينَهُ، وَلَا تَغُلُّوا، وَلَا تَغْدِرُوا، وَلَا تَجْبُنُوا، وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ، وَلَا تَعْصُوا مَا تُؤْمَرُونَ، فَإِذَا لَقِيتُمُ الْعَدُوَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنْ شَاءَ اللهُ فَادْعُوهُمْ إِلَى ثَلَاثِ خِصَالٍ، فَإِنْ هُمْ أَجَابُوكَ فَاقْبَلُوا مِنْهُمْ وَكُفُّوا عَنْهُمْ، ادْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَإِنْ هُمْ أَجَابُوكَ فَاقْبَلُوا مِنْهُمْ وَكُفُّوا عَنْهُمْ، ثُمَّ ادْعُوهُمْ إِلَى التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِهِمْ إِلَى دَارِ الْمُهَاجِرِينَ، فَإِنْ هُمْ فَعَلُوا فَأَخْبِرُوهُمْ ⦗١٤٦⦘ أَنَّ لَهُمْ مِثْلَ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُهَاجِرِينَ، وَإِنْ هُمْ دَخَلُوا فِي الْإِسْلَامِ وَاخْتَارُوا دَارَهُمْ عَلَى دَارِ الْمُهَاجِرِينَ فَأَخْبِرُوهُمْ أَنَّهُمْ كَأَعْرَابِ الْمُسْلِمِينَ، يَجْرِي عَلَيْهِمْ حُكْمُ اللهِ الَّذِي فَرَضَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ، وَلَيْسَ لَهُمْ فِي الْفَيْءِ وَالْغَنَائِمِ شَيْءٌ حَتَّى يُجَاهِدُوا مَعَ الْمُسْلِمِينَ، فَإِنْ هُمْ أَبَوْا أَنْ يَدْخُلُوا فِي الْإِسْلَامِ فَادْعُوهُمْ إِلَى الْجِزْيَةِ، فَإِنْ هُمْ فَعَلُوا فَاقْبَلُوا مِنْهُمْ وَكُفُّوا عَنْهُمْ، وَإِنْ هُمْ أَبَوْا فَاسْتَعِينُوا بِاللهِ عَلَيْهِمْ فَقَاتِلُوهُمْ إِنْ شَاءَ اللهُ، وَلَا تُغْرِقُنَّ نَخْلًا وَلَا تَحْرِقُنَّهَا، وَلَا تَعْقِرُوا بَهِيمَةً، وَلَا شَجَرَةً تُثْمِرُ، وَلَا تَهْدِمُوا بَيْعَةً، وَلَا تَقْتُلُوا الْوِلْدَانَ وَلَا الشُّيُوخَ وَلَا النِّسَاءَ، وَسَتَجِدُونَ أَقْوَامًا حَبَسُوا أَنْفُسَهُمْ فِي الصَّوَامِعِ فَدَعُوهُمْ وَمَا حَبَسُوا أَنْفُسَهُمْ لَهُ، وَسَتَجِدُونَ آخَرِينَ اتَّخَذَ الشَّيْطَانُ فِي رُءُوسِهِمْ أَفْحَاصًا، فَإِذَا وَجَدْتُمْ أُولَئِكَ فَاضْرِبُوا أَعْنَاقَهُمْ إِنْ شَاءَ اللهُ "..
حافظ ثناء اللہ

سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے شام کی جانب لشکر روانہ فرمائے۔ یزید بن ابی سفیان، عمرو بن عاص اور شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ لشکر کو الوداع کہنے کے لیے ثنیۃ الوداع تک پیدل ان کے ساتھ گئے، انہوں نے کہا: ”اے خلیفۃ المسلمین! ہم سوار اور آپ پیدل؟“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں اپنے ان قدموں کو اللہ کے راستے میں ثواب کی نیت سے اٹھاتا ہوں۔“ پھر امراء کو وصیت فرماتے ہوئے فرمایا: ”میں تمہیں اللہ کے تقویٰ کی نصیحت کرتا ہوں، اللہ کے راستے میں غزوہ کرو، جو اللہ کے ساتھ کفر کرے ان سے جہاد کرو۔ اللہ اپنے دین کی مدد کرنے والا ہے۔ خیانت نہ کرو، دھوکا نہ دو، بزدلی نہ دکھاؤ، زمین پر فساد نہ کرو، دیے گئے احکام کی نافرمانی نہ کرو۔ اگر اللہ چاہے تمہاری ملاقات دشمن سے ہو جائے تو ان کو تین چیزوں کی طرف دعوت دو۔ اگر وہ قبول کر لیں تو تم ان سے اپنے ہاتھ روک لو: 1 انہیں اسلام کی دعوت دو، اگر اسلام قبول کر لیں تو اپنے ہاتھ ان سے روک لو، پھر انہیں اپنے گھروں سے مہاجرین کے گھروں میں منتقل ہونے کا کہا جائے۔ اگر وہ یہ کام کر لیں تو انہیں بتا دیں، ان کے لیے وہی ہے جو مہاجرین کے لیے ہے یا ان کے ذمہ بھی وہی ہے جو مہاجرین کے ذمہ ہے، اگر وہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد مہاجرین کے گھروں پر اپنے گھروں کو ترجیح دیں تو ان کو بتا دینا کہ وہ عام دیہاتی مسلمانوں کی مانند ہیں، جو مومنوں پر احکام جاری ہوتے ہیں وہی تمہارے اوپر ہوں گے اور مالِ فے اور غنیمت سے اس وقت تک حصہ نہ ملے گا جب تک مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد نہ کریں گے۔ 2 اگر اسلام میں داخل ہونے سے انکار کر دیں تو جزیہ کی دعوت دو، اگر یہ کام کریں تو جزیہ قبول کر لو اور اپنے ہاتھ روک لو۔ 3 اگر وہ اس سے انکار کریں تو ان کے خلاف اللہ سے مدد طلب کرو اور اگر اللہ چاہے تو ان سے قتال کرو۔ اور تم کھجور کے درخت مت کاٹو اور نہ ہی ان کو جلاؤ، چوپائے اور پھل دار درخت نہ کاٹو اور گرجا گھر مت گراؤ، بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کو مت قتل کرو۔ عنقریب تم ایسے لوگوں کو پاؤ گے جنہوں نے اپنے آپ کو چرچوں کے اندر روک رکھا ہوگا، ان کو چھوڑ دو، اور بعض نے اپنے آپ کو ان کے اندر بند نہ رکھا ہوگا، اور عنقریب تم ایسے لوگ پاؤ گے کہ شیطان نے ان کے سروں کے درمیان گھونسلا بنا رکھا ہوگا، جب تم ایسے افراد سے ملو تو ان کی گردنیں اتار دو اگر اللہ چاہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18125
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»