السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: قطع الشجر وحرق المنازل باب: درخت کاٹنے اور مکانات جلانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 18124
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، قَالَ: " كَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَأْمُرُ أُمَرَاءَهُ حِينَ كَانَ يَبْعَثُهُمْ فِي الرِّدَّةِ: " إِذَا غَشِيتُمْ دَارًا " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، إِلَى أَنْ قَالَ: " فَشُنُّوهَا غَارَةً فَاقْتُلُوا، وَأَحْرِقُوا، وَانْهَكُوا فِي الْقَتْلِ وَالْجِرَاحِ، لَا يُرَى بِكُمْ وَهَنٌ لِمَوْتِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".حافظ ثناء اللہ
طلحہ بن عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ جب ارتداد کے خلاف لشکر روانہ فرماتے تو امراء کو حکم دیتے کہ جب تم کسی علاقہ پر حملہ کرو تو ہر طرف سے حملہ کرو، قتل کرو، جلاؤ اور قتل و زخمی کرنے میں مبالغہ کرو۔ نبی ﷺ کی موت کی وجہ سے تمہارے اندر کمزوری ظاہر نہ ہو۔