السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من تولى متحرفا لقتال أو متحيزا إلى فئة باب: اس شخص کا بیان جو جنگی چال کے طور پر یا اپنی کسی دوسری جماعت سے ملنے کے لیے پیچھے ہٹے۔
حدیث نمبر: 18085
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، سَمِعَ سُوَيْدًا، سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ لَمَّا هُزِمَ أَبُو عُبَيْدَةَ: " لَوْ أَتَوْنِي كُنْتُ فِئَتَهُمْ ". ذَكَرَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي رِوَايَةِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَغْدَايِّ، عَنْهُ أَحَادِيثَ فِي الْبَيْعَةِ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِيمَا اسْتَطَاعُوا، وَقَدْ ذَكَرْنَاهَا فِي قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ ".حافظ ثناء اللہ
سوید نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرماتے تھے: جب ابوعبید کو شکست ہوئی، اگر وہ میرے پاس آ جاتے تو میں ان کے لشکر یا گروہ میں ہوتا۔ (ب) بیعت کی احادیث کے بارے میں ہے کہ صرف اپنی استطاعت کے مطابق اطاعت کی جائے گی۔