کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جو جنگی چال کے طور پر یا اپنی کسی دوسری جماعت سے ملنے کے لیے پیچھے ہٹے۔
حدیث نمبر: 18082
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ، فَلَقُوا الْعَدُوَّ فَحَاصَ النَّاسُ حَيْصَةً، فَأَتَيْنَا الْمَدِينَةَ، فَفَتَحْنَا بَابَهَا، وَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، نَحْنُ الْفَرَّارُونَ. فَقَالَ: " بَلْ أَنْتُمُ الْعَكَّارُونَ وَأَنَا فِئَتُكُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک لشکر میں بھیجا، وہ دشمن سے ملے تو لوگ فرار ہو گئے، ہم نے مدینہ آ کر اس کا دروازہ کھولا اور کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم فرار ہونے والے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم واپس پلٹنے والے ہو، میں بھی تمہارے گروہ میں ہوں۔“
حدیث نمبر: 18083
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ فَلَقِينَا الْعَدُوَّ، فَحَاصَ الْمُسْلِمُونَ حَيْصَةً، فَكُنْتُ فِيمَنْ حَاصَ، قُلْتُ فِي نَفْسِي: لَا نَدْخُلُ الْمَدِينَةَ وَقَدْ بُؤْنَا بِغَضَبٍ مِنَ اللهِ، ثُمَّ قُلْنَا: نَدْخُلُهَا فَنَمْتَارُ مِنْهَا، فَدَخَلْنَا فَلَقِينَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ خَارِجٌ إِلَى الصَّلَاةِ، فَقُلْنَا: نَحْنُ الْفَرَّارُونَ، فَقَالَ: " بَلْ أَنْتُمُ الْعَكَّارُونَ ". فَقُلْنَا: يَا نَبِيَّ اللهِ، أَرَدْنَا أَنْ لَا نَدْخُلَ الْمَدِينَةَ وَأَنْ نَرْكَبَ الْبَحْرَ. قَالَ: " لَا تَفْعَلُوا فَإِنِّي فِئَةُ كُلِّ مُسْلِمٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک لشکر میں بھیجا۔ ہماری دشمن سے ملاقات ہوئی تو مسلمان بھاگ کھڑے ہوئے۔ میں بھی فرار ہونے والوں میں سے تھا۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہم مدینہ میں داخل نہ ہوں گے، کیونکہ ہم تو اللہ کے غضب سے لوٹے ہیں۔ پھر ہم نے کہا کہ بکھر کر داخل ہوجائیں گے۔ ہم مدینہ میں داخل ہوئے تو نبی ﷺ نماز کے لیے نکلے تھے۔ ہماری ملاقات ہوگئی، ہم نے کہا: ہم فرار ہونے والے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تم پلٹ کر جانے والے ہو۔“ ہم نے کہا: مدینہ داخل ہونے سے پہلے ہم سمندری سفر کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا نہ کرو، میں ہر مسلمان کے گروہ میں شامل ہوں۔“
حدیث نمبر: 18084
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " أَنَا فِئَةُ كُلِّ مُسْلِمٍ ".
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں مسلمانوں کے طبقہ (درجہ) میں ہوں۔
حدیث نمبر: 18085
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، سَمِعَ سُوَيْدًا، سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ لَمَّا هُزِمَ أَبُو عُبَيْدَةَ: " لَوْ أَتَوْنِي كُنْتُ فِئَتَهُمْ ". ذَكَرَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي رِوَايَةِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَغْدَايِّ، عَنْهُ أَحَادِيثَ فِي الْبَيْعَةِ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِيمَا اسْتَطَاعُوا، وَقَدْ ذَكَرْنَاهَا فِي قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ ".
حافظ ثناء اللہ
سوید نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرماتے تھے: جب ابوعبید کو شکست ہوئی، اگر وہ میرے پاس آ جاتے تو میں ان کے لشکر یا گروہ میں ہوتا۔ (ب) بیعت کی احادیث کے بارے میں ہے کہ صرف اپنی استطاعت کے مطابق اطاعت کی جائے گی۔